اس وقت طاقتور ادارے حکومت کررہے ہیں وہ کسی آئین و قانون بلکہ اخلاق تک کے پابند نہیں۔ مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک پر قرضوں کا دباؤ اور مہنگائی بڑھ گئی جبکہ عوام کی مشکلات کا مداوا نہیں کیا جارہا، عالمی قوتوں نے اسلامی دفاعی معاہدے پر کاری ضرب ہے ملک میں حکومت کسی اورکی ہے جبکہ حکمرانوں کی پالیسیز کی وجہ سے قوم تشویش میں مبتلا ہیں، ملک میں قرضوں کا دباؤاور مہنگائی بڑھ گئی ہے جبکہ مہنگائی کے حوالے سے عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کیا جارہا کیونکہ حکمران اندھے ہو چکے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نےاپنی رہائش گاہ پر جے یو آئی کے دو روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کیا مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کچھ جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اسلام آباد کو کنٹینرز سے بھر دیا گیا ہے، ایسے رویوں سے ملک کے لیے باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میگا پراجیکٹ معطل ہیں جبکہ لوگ اپنا سرمایہ اب بیرون ملک منتقل کررہے ہیں، چین کا اعتماد آپ کھو چکے ہیں جبکہ ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے اور گھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔
تاریخیکتابیں دریافت کریں۔
مولانا نے کہا کہ ملک مشکل میں گھرا ہوا ہے بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، مسائل پارلیمنٹ میں آنے چاہیئں مگر حکومت میں بیٹھے لوگ خاموش ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکہ ایران جنگ بندی کے نتائج تو بتائیں جائیں، آج سعودی عرب پر گولے برسائے جارہے ہیں ایسی صورت حال میں پارلیمنٹ ہاؤس کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے کیونکہ پارلیمانی لیڈر کے بند کمرے اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو آگے بڑھنا چاہیے، اس میں مصر اور ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا مگر عالمی قوتوں نے اسلامی دفاعی اتحاد پر کاری ضرب لگادی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس ساری صورت حال سے قوم کو بے خبر رکھا گیا ہے، ایران امریکہ ثالثی کی حمایت کی مگر اس کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا جبکہ آج جو صورتحال پھر بن گئی ہے اس حوالے سے کچھ بھی واضح نہیں کیا جارہا۔
انھوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے سیاسی قیدیوں کی رہائی،کشمیر کا مسئلہ اور صوبوں کی تقسیم کے مسائل ایجنڈا رکھے ہیں حکومت نے متحدہ اپوزیشن سے رابطہ کیا تو بات کریں گے انھوں نے کہا کہ ہم نے طے کیا ہوا ہے کہ ہم مسائل اپنے پلیٹ فارم سے اٹھائیں گے معیشت و مہنگائی سب کی آواز ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بانئ چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنوں کو اٹھایا جانا قابل مذمت ہے کے پی کے میں کیسی حکومت ہے جس میں ایک وزیر کو گولیاں مار کر اٹھا لیا گیا ڈیرہ اسماعیل خان میں حکومت پی ٹی آئی کی ہے مگر اسے جلسہ کرنے کی اجازت نہیں اگر صوبوں کے حامی وزیر میرے گھر آتے ہیں تو انہیں آنے دوں گا مگر پچیس سال پہلے کی حیثیت پر آنے دوں گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے فورم پر احتجاج کا فیصلہ کیا ان کو احتجاج کا مکمل حق حاصل ہے ہم نے لانگ مارچ کیا کوئی پتہ ٹوٹا نہ کوئی گملہ بلکہ لاہور مارچ کے دوران میٹرو بس چل رہی تھی ہمیں اس حکومت پر تحفظات ہیں ہم اس حکومت کے مخالف فریق ہیں میڈی ایشن کیسے ہوسکتی ہے نمائندہ حکومت ہوگی تو اس سے بات چیت ہوگی، ہمسائیہ ممالک کے ساتھ بات کرسکتے ہیں انڈیا کیساتھ 2003ء میں ٹینشن اپنی حدوں کو چھو رہی تھی اس وقت کا کردار بھی سامنے رکھا جانا چاہیئے۔
انھوں نے کہا کہ پارلیمان کے اندر اشتراک عمل کی جے یو آئی جنرل کونسل نے توثیق کی ہے۔
احتجاج ہم نے کئے اور جماعتوں نے کئے باقی جماعتوں کو بھی احتجاج کا حق ہونا چاہئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کی دوطرفہ گفتگو ہوتی ہے حکومت احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کرے ہم خود فریق ہیں ہم اس حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ سمجھتے ہیں حکومت جے یو آئی کے بغیر یا بنتی نہیں یا پھر چلتی نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کی یہ واضح ہو کہ سیاستدانوں کی حکومت ہے دوہزار تین میں ہم نے دس روز گزارے اور پاک بھارت تعلقات تناؤ سے نکالے۔
اپنی سر زمین خون سے سرخ ہے اور باہر جاکر سرخ قالین انجوائے کررہے ہیں پی پی پی حکومت کا حصہ نہیں ہے تو اقلیت حکومت کررہی ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی پی پی اپوزیشن کی طرف آتی ہے تو پھر عدم اعتماد سمیت سب آپشنز ہوسکتے ہیں صدارتی طرز حکومت آمریت کی علامات ہیں پارلیمانی نظام سیاستدان چلاتے ہیں۔