Pakistan

مری میں قتل ہونے والے شخص کو خواجہ سرا قرار دینا معمہ بن گیا

مری میں قتل ہونے والے شخص کو خواجہ سرا قرار دینا معمہ بن گیا
۲۳ گھنٹے پہلے

مری میں 32 سالہ شخص کا قتل ایک معمہ بن گیا۔ پولیس اور میڈیا نے مقتول کو خواجہ سرا قرار دیا ہے جبکہ والد نے اسے اپنا سب سے بڑا بیٹا قرار دیا ہے اب یہ بات معمہ بن گئی ہے کہ مقتول خواجہ سرا تھا یا خواجہ سرا کے طور پر زندگی بسر کر رہا تھا۔ مقتول کے والد نے کہا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ 

 

پولیس اور دیگر ذرائع کے مطابق مری کے ایک گیسٹ ہاؤس میں مقیم شخص کو قتل کیا گیا، جس کی شناخت 32 سالہ محسن جاوید کے نام سے ہوئی۔ مقتول محلہ پیر صحابہ کا رہائشی تھا اور گزشتہ کئی سال سے روزگار کے سلسلے میں راولپنڈی اور مری میں مقیم تھا۔

 

مقتول کے والد محمد جاوید نے تھانہ مری پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ ان کا بیٹا گزشتہ چھ، سات سال سے روزگار کے سلسلے میں راولپنڈی اور مری میں مقیم تھا اور گزشتہ شب مری کے صنم گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا، جہاں سے بعد ازاں اس کی گلا کٹی لاش برآمد ہوئی۔

 

محمد جاوید کے مطابق محسن ان کے تین بیٹوں میں سب سے بڑا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے بیٹے کی لاش دیکھی تو اس کے دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے، سر پر گہرا زخم موجود تھا جبکہ جسم کے دیگر حصوں پر بھی تشدد کے نشانات تھے۔

 

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کے بیٹے کو کس نے اور کیوں اتنی بے رحمی سے قتل کیا۔ ان کے مطابق پولیس نے واقعے میں ملوث ملزم یا ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

 

دوسری جانب ڈسٹرکٹ پولیس مری کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ڈی پی او مری رضا تنویر سپرا نے واقعے کا فوری نوٹس لے لیا ہے۔ پولیس نے ابتدائی اطلاعات میں مقتول کو خواجہ سرا منو قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سے تین روز سے صنم گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھا اور اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پایا گیا۔

 

پولیس کے مطابق مقتول کے گلے پر تیز دھار آلے سے گہرے زخم کے نشانات پائے گئے ہیں، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔

 

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور متعلقہ افسران موقع پر پہنچ گئے، جائے وقوعہ کو محفوظ کرکے فرانزک شواہد اکٹھے کیے گئے۔ پولیس گیسٹ ہاؤس اور گردونواح کی سی سی ٹی وی فوٹیج، گیسٹ ریکارڈ، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی حاصل کر رہی ہے۔

 

اس کے علاوہ مقتول کی آخری نقل و حرکت اور اس سے رابطے میں رہنے والے افراد کی تفصیلات کا تعین کیا جا رہا ہے، جبکہ ملزم یا ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے خصوصی پولیس ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔

 

ڈی پی او مری رضا تنویر سپرا کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو جلد ٹریس کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پولیس نے شہریوں سے غیر مصدقہ اطلاعات سے گریز کرنے اور واقعے سے متعلق کسی بھی معلومات کی صورت میں فوری طور پر مری پولیس کو آگاہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

 

مقتول کی نمازِ جنازہ گزشتہ شب چکوال کے مقامی قبرستان پیر صحابہ میں ادا کی گئی، جس کے بعد اسے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

 

اب قتل کے اصل محرکات کیا تھے، محسن جاوید کو کس نے اور کیوں قتل کیا، یہ حقائق پولیس تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔ اس کے ساتھ یہ معاملہ بھی مزید مستند معلومات کے بعد واضح ہوگا کہ مقتول خواجہ سرا تھا یا خواجہ سرا کے طور پر زندگی بسر کر رہا تھا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں