کراچی: ابتدائی پوسٹ مارٹم میں میاں بیوی اور بچیوں کی موت کی وجہ واضح نہ ہو سکی
کراچی کے علاقے احسن آباد میں ایک فلیٹ سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی کئی روز پرانی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابتدائی پوسٹ مارٹم کے باوجود ان کی موت کی وجہ تاحال واضح نہیں ہوسکی۔
پولیس کے مطابق مرنے والوں میں گھر کے سربراہ ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ مہوش اور ان کی 3 کم عمر بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک بیٹی کی شناخت زینب کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ دیگر 2 بچیوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
واقعہ اس وقت سامنے آیا جب فلیٹ سے شدید تعفن اٹھنے پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر فلیٹ کا دروازہ توڑا تو کمرے میں موجود بستر پر ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تینوں بچیوں کی لاشیں ملیں۔
ڈاکٹر عمر کے بھائی ابوبکر کے مطابق بعض خاندانی مسائل کی وجہ سے کافی عرصے سے ان کا اپنے بھائی سے رابطہ نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ڈاکٹر عمر کی صرف ایک بیٹی کے بارے میں معلوم تھا اور دیگر 2 بچیوں سے متعلق انہیں کوئی علم نہیں تھا۔ واقعے کی اطلاع بھی انہیں پڑوسیوں اور پولیس کے ذریعے ملی۔
متوفین کے پڑوسی عدنان نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کافی عرصے سے بے روزگار تھے، تاہم کچھ عرصہ قبل انہیں ایک نجی اسپتال میں ملازمت مل گئی تھی۔ پڑوسی کے مطابق 9 ستمبر کو ڈاکٹر عمر اسپتال سے تنخواہ وصول کرکے واپس آرہے تھے کہ راستے میں مبینہ طور پر ایک ڈاکو نے انہیں لوٹ لیا تھا۔
دوسری جانب پانچوں لاشوں کا ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق لاشیں تقریباً 4 سے 5 روز پرانی تھیں، تاہم پوسٹ مارٹم کے دوران فوری طور پر موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ ابھی درج نہیں کیا گیا۔ اگر متوفین کے رشتے دار مقدمہ درج نہیں کراتے تو پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے اب تک 10 افراد کے ابتدائی بیانات قلم بند کیے ہیں، جبکہ عمارت اور اس کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ گھر کی تلاشی کے دوران پولیس کو کوئی موبائل فون نہیں ملا۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمر کی اہلیہ نے گزشتہ ہفتے گھر کا اوون فروخت کرنے کی کوشش بھی کی تھی، جس کے بعد ایک پڑوسی نے ان کی مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے کچھ رقم بطور مدد فراہم کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمر کا آبائی تعلق بہاول نگر سے تھا، جبکہ پانچوں افراد کی موت کے اصل اسباب جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔