Pakistan

صوابی میں ایف بی آر کے گودام سے 25 کروڑ مالیت کے سگریٹ غائب

صوابی میں ایف بی آر کے گودام سے 25 کروڑ مالیت کے سگریٹ غائب
۱ منٹ پہلے

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ویئر ہاؤس سے تقریباً 25 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

 

ایف آئی آر کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ متعلقہ گودام میں موجود سامان کی نگرانی اور ریکارڈ رکھنے کے ضروری انتظامات دستیاب نہیں تھے۔ ویئر ہاؤس میں نہ تو اسٹاک رجسٹر موجود تھا اور نہ ہی سی سی ٹی وی ریکارڈ اور سامان کی نقل و حرکت کی تفصیلات دستیاب تھیں۔

 

ایف بی آر کے ویئر ہاؤس سے 25 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ غائب ہونے کے معاملے پر   مقدمے میں ایف بی آر کے افسران اور اہلکاروں سمیت نجی سگریٹ کمپنی سے وابستہ افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

 

مقدمہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد سفیر احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ نامزد ملزمان میں انسپکٹر کامران، انسپکٹر نوید، ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈ، نائب قاصد، نجی کمپنی کے دو ڈائریکٹرز اور منیجر شامل ہیں۔ ملزمان پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، غفلت اور باہمی ملی بھگت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

 

ایف آئی آر کے مطابق فروری 2024 میں صوابی میں سگریٹ کے ایک ہزار 262 کارٹن پکڑے گئے تھے، جنہیں ایف بی آر کے مردان ویئر ہاؤس منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں انسپکٹر کامران اور انسپکٹر نوید نے ایک ہزار 202 کارٹن مردان سے صوابی منتقل کیے، تاہم صوابی کے گودام میں پہنچنے پر ٹرکوں سے 908 کارٹن غائب پائے گئے۔

 

ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ انسپکشن کے دوران مجموعی طور پر دو ہزار 828 کارٹن غائب ہونے کا انکشاف ہوا۔ الزام عائد کیا گیا ہے کہ سگریٹ کی مبینہ چوری میں ایف بی آر کے انسپکٹرز اور دیگر عملہ براہ راست ملوث تھا اور مبینہ ملی بھگت کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو تقریباً 25 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

 

مقدمے کے متن کے مطابق گوداموں میں مبینہ طور پر جان بوجھ کر لاگ بک تیار نہیں کی گئی جبکہ سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب نہیں کیے گئے تھے۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ 908 کارٹن غائب ہونے کے باوجود ایف بی آر کی جانب سے نہ کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی اس معاملے سے پولیس کو آگاہ کیا گیا۔

 

ایف آئی اے نے معاملے کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے اور دیگر ایف بی آر افسران سمیت ممکنہ طور پر ملوث افراد کے کردار کا بھی تعین کیا جارہا ہے۔ مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں