لانگ مارچ ملتوی کرنے کے لیے حکومت کا رابطہ، پی ٹی آئی نے تین شرائط رکھ دیں
اسلام آباد (رضوان غلزئی) پاکستان تحریک انصاف کے ستائیس ستمبر کے لانگ مارچ سے پہلے حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان اہم رابطہ ہوا ہے۔ اہم حکومتی شخصیت نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے رابطہ کیا اور لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے لانگ مارچ موخر کرنے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے حکومتی شخصیت کے سامنے تین مطالبات رکھے جس میں عمران خان کی تینوں بہنوں کی فوری رہائی، سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد، لانگ مارچ سے پہلے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار رہنماوں اور کارکنان کی رہائی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اگر معاملات بہتر کرنا چاہتی ہے تو عمران خان کو علاج کے لیے کسی بھی اسپتال میں منتقل کریں جہاں انکی بہن اور ذاتی معالج کی نگرانی میں انکا مکمل چیک اپ کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی شخصیت کی طرف کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم کرنے کی فوری یقین دھانی نہیں کرواسکتے تاہم مشاورت کے بعد پی ٹی آئی قیادت کو جواب دیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سے رابطے کا مقصد ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالنا ہے۔ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی قیادت کو پیغام پہنچایا گیا ہے کہ لانگ مارچ کو انتظامیہ جہاں بھی روکے، مظاہرین کو وہیں پر امن رہنا ہوگا، اسلام آباد آنے کی اجازت بالکل نہیں دی جاسکتی۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے دوران دونوں جانب سے دوبارہ مذاکرات بھی ہوں گے، رابطوں کا مقصد صورتحال کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درمیانی راستہ تلاش کرنا ہے۔
اسی قسم کا ایک رابطہ گزشتہ ہفتے بھی ہوا تھا جب وزیرداخلہ محسن نقوی نے علامہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر سے ملاقات میں لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں محسن نقوی کی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ٹیلیفون پر بات کروائی گئی تھی، محمود اچکزئی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کے امکان کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کیا۔ تاہم محسن نقوی نے کہا عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی جاسکتی جس کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے جواب دیا کہ لانگ مارچ بھی کسی صورت ملتوی نہیں ہوسکتا۔