راولپنڈی، مری، کشمیر روڈ کی متبادل سوار گلی بوئی ڈیفنس روڈ کھنڈر بن گئی،لاکھوں افراد مشکلات کا شکار
ایبٹ آباد کے علاقے گلیات، یونین کونسل پلک، سرکل بکوٹ میں واقع سوار گلی بوئی روڈ، جسے ڈیفنس روڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار ہے اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تقریباً 45 کلومیٹر طویل یہ شاہراہ راولپنڈی، مری، کشمیر (RMK) روڈ کے متبادل راستے کے طور پر اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اس سڑک کو اسٹریٹجک ضرورت کے تحت اس مقصد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا تاکہ کسی ہنگامی صورتحال، قدرتی آفت، لینڈ سلائیڈنگ یا مرکزی شاہراہ کی بندش کی صورت میں متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔
سوار گلی بوئی روڈ کو 2000 کی دہائی میں پختہ کیا گیا تھا، تاہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مناسب مرمت اور بحالی نہ ہونے کے باعث یہ اہم شاہراہ اب شدید خراب صورتحال سے دوچار ہے۔
سڑک پر جگہ جگہ گڑھے، ٹوٹا ہوا فرش، ملبہ اور بارش کے پانی کے باعث سفر انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔ چند منٹوں کا فاصلہ طے کرنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
اس شاہراہ کے دونوں اطراف لاکھوں افراد آباد ہیں، جن کی روزمرہ زندگی، کاروبار، تعلیم، صحت اور ہنگامی ضروریات اسی راستے سے وابستہ ہیں، لیکن سڑک کی خراب حالت کے باعث انہیں مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سیاسی ادوار میں بحالی کا معاملہعلاقہ مکینوں اور مقامی حلقوں کی جانب سے کئی برسوں سے سوار گلی بوئی روڈ کی بحالی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد بار احتجاج بھی کیے گئے۔
کچھ عرصہ قبل کوہالہ کے مقام پر دھرنا دے کر شاہراہ کشمیر کو دو روز تک بند رکھا گیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی جانب سے سڑک کی تعمیر و بحالی کے وعدے کیے گئے، تاہم تاحال ان وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
مقامی افراد کے مطابق خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے مسلسل 16 سالہ دور حکومت کے دوران بھی اس شاہراہ کی مکمل تعمیر نو اور بحالی کے لیے کوئی بڑا عملی منصوبہ سامنے نہیں آیا، حالانکہ یہ راستہ جغرافیائی اور عوامی لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن قومی اسمبلی اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کا بھی یہی حلقہ انتخاب رہا ہے، تاہم ان کے دورِ نمائندگی میں بھی یہ شاہراہ اپنی اہمیت کے مطابق مکمل طور پر بحال نہ ہوسکی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی ادوار میں اعلانات اور یقین دہانیوں کے باوجود سوار گلی بوئی روڈ کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا، جس کے باعث ایک اہم متبادل راستہ مسلسل زبوں حالی کا شکار ہے۔
مقامی سطح پر یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ فنڈز کی کمی، انتظامی ترجیحات اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کے مسائل سڑک کی بحالی میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سوار گلی بوئی روڈ کو صرف کاغذات میں متبادل دفاعی راستہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے عملی طور پر قابلِ استعمال شاہراہ بنایا جائے تاکہ ہنگامی حالات میں یہ اپنا حقیقی کردار ادا کرسکے۔
مقامی افراد کے مطابق اگر کسی سڑک کو "ڈیفنس روڈ" کا نام دیا گیا ہے تو اسے اسی اہمیت کے مطابق برقرار رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی متبادل راستے کی افادیت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب ضرورت کے وقت وہ مکمل طور پر قابلِ استعمال ہو۔