حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک ڈور رابطوں میں پیشرفت، لانگ مارچ پر درمیانی راستے پر غور
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری بیک ڈور رابطوں میں پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں لانگ مارچ کے معاملے پر درمیانی راستہ نکالنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ مؤخر کرنا مذاکرات کے لیے بنیادی شرط ہوگی، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کو مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
حکومتی اور پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان رابطے جاری ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ موجودہ صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکا جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے حکومت کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چند گھنٹے قبل بھی رابطہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت لانگ مارچ کرنے جا رہی ہے، اس لیے بات چیت ہونی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے حکومت پر زور دیا کہ سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف سخت اقدامات کے بجائے ان کے تحفظات سنے جائیں اور مسائل کے حل کے لیے راستہ نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھا رہی ہے، جبکہ حکومت اگر دو قدم پیچھے ہٹے تو ہم دس قدم پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہیں تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی راستہ پیدا ہو سکے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے باقاعدہ مذاکرات ممکن نہیں۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹی، تاہم ماضی کے تجربات کی وجہ سے معاملات کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ملاقاتوں اور علاج کے معاملات کو وہ براہ راست نہیں دیکھتے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے وفاقی سطح کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں اور رابطے کیے، جن میں لانگ مارچ اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر رسمی رابطوں میں اس تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی قیادت انتظامیہ کی مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی نہ کرے اور جہاں روکا جائے وہاں پرامن احتجاج جاری رکھا جائے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کو آئینی اور قانونی دائرے تک محدود رکھا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی سے ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی سمیت دیگر آئینی معاملات پر گفتگو کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی یا عمران خان کی مستقل طور پر نجی اسپتال منتقلی کا معاملہ حکومتی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اسلام آباد میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ لانگ مارچ کے حوالے سے عملی صورتحال سامنے آنے کے بعد ہی مزید اقدامات واضح ہوں گے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم لانگ مارچ کے طریقہ کار، دورانیے اور مذاکرات کے وسیع تر ایجنڈے پر ابھی حتمی اتفاق سامنے نہیں آیا۔