ٹھوس شواہد کے بغیر رضوان کو نشانہ بنانا مناسب نہیں،سابق کرکٹرز
قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے خلاف الزامات سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سابق کرکٹرز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شواہد اور انکوائری کے عمل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ محمد رضوان کے خلاف اب تک نہ تو کوئی واضح تحریری الزام سامنے لایا گیا ہے اور نہ ہی باضابطہ چارج شیٹ جاری کی گئی ہے، جس کے باعث ان کے خیال میں معاملے کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر کسی کھلاڑی کو نشانہ بنانا مناسب نہیں اور ایسی صورتحال میں کھلاڑی کو قربانی کا بکرا بنایا جا سکتا ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن خان نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فکسنگ یا جوئے جیسے الزامات اگر ثابت نہ ہوں تو وہ کسی بھی کھلاڑی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
سابق فاسٹ بولر جنید خان نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محمد رضوان کو تاحال کوئی تحریری الزام یا باضابطہ فرد جرم فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق انکوائری کے باعث رضوان کو اپنا طے شدہ عمرہ سفر بھی منسوخ کرنا پڑا۔
سابق کرکٹرز کی جانب سے یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محمد رضوان کے خلاف کسی مخصوص قانونی یا معاہداتی خلاف ورزی کی تفصیلات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق معاملے پر متعلقہ اداروں سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم کسی جانب سے باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔