World

نیتن یاہو کے اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران پاکستان سمیت 75 ممالک کا واک آؤٹ

نیتن یاہو کے اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران پاکستان سمیت 75 ممالک کا واک آؤٹ
۱۶ گھنٹے پہلے

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر متعدد ممالک کے وفود نے احتجاجاً اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہال چھوڑ دیا، جس کے بعد اسمبلی ہال تقریباً خالی ہوگیا۔

 

رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کی تقریر کے دوران تقریباً 75 ممالک کے نمائندوں نے واک آؤٹ کیا۔

 

 واک آؤٹ کرنے والے ممالک میں پاکستان، سعودی عرب، مصر، قطر، عمان، عراق، انڈونیشیا، کویت، الجزائر، شام، اردن، ترکی، ملائیشیا، فلسطین، ایران، بنگلہ دیش، برازیل، جنوبی افریقہ، اسپین، آئرلینڈ، ناروے، کیوبا، شمالی کوریا، وینزویلا، لیبیا، تیونس، سوڈان، یمن، لبنان، افغانستان سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔

 

ایرانی وفد نے بھی احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اپنی میز پر شہید لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی تصویر رکھی اور اجلاس سے باہر چلا گیا۔

 

اپنے خطاب میں بنیامین نیتن یاہو نے ایران، غزہ اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے پاس جنگ جاری رکھنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں اور دعویٰ کیا کہ "ہم جیتیں گے"۔

 

واک آؤٹ کرنے والے نمائندوں پر تنقید کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اگر کوئی اور بھی احتجاج کرنا چاہتا ہے تو وہ ہال چھوڑ سکتا ہے۔

 

اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

 

اس سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ سے ویڈیو خطاب میں کہا تھا کہ اسرائیلی پالیسیاں، خصوصاً مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع، فلسطینی عوام کے وجود اور اپنی سرزمین پر بقا کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

 

محمود عباس نے کہا کہ یہ اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو متاثر کر رہے ہیں، جسے عالمی سطح پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے ایک راستہ سمجھا جاتا ہے۔

 

انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی فوج پر قتل، تباہی، بھوک اور جبری بے دخلی کے الزامات عائد کیے۔ فلسطینی صدر نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا کیونکہ امریکا نے انہیں اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا جاری نہیں کیا تھا۔

 

نیتن یاہو نے ان ممالک اور رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو اسرائیلی پالیسیوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر نوآبادیات کے الزامات لگانے والے ممالک میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں۔

 

اسرائیلی وزیر اعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر حماس کی حمایت کا الزام لگایا۔

 

ترکی نے نیتن یاہو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو ترکی اور صدر اردوان کے خلاف الزامات کے لیے استعمال کرنا امن، قانون اور مکالمے کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

 

ترک ایوان صدر کے شعبہ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران نے کہا کہ ایسے بیانات سفارتی روایات اور عالمی تعاون کے جذبے کے خلاف ہیں۔

 

نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جو پہلے نیتن یاہو کی گرفتاری سے متعلق بیان دے چکے تھے، تاہم بعد میں انہوں نے وضاحت کی تھی کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا قانونی اختیار موجود نہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں