World

مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے چیف آف سٹاف اجلاس کی تیاریاں

مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے چیف آف  سٹاف اجلاس کی تیاریاں
۱۰ گھنٹے پہلے

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقہ کار پر غور کے لیے تینوں ممالک کے چیف آف اسٹاف کے ہنگامی اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لیا ہے۔

 

ترک خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جبکہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مشن کے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔

 

ملاقات کے دوران تینوں وزرائے خارجہ نے چیف آف اسٹاف کے اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے لیے ممکنہ اقدامات اور طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے گا۔

 

مکہ دفاعی معاہدے کے مطابق کسی بھی رکن ملک پر حملہ تمام فریقین کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

 

تینوں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب میں مکہ مکرمہ، شہری علاقوں اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی مذمت کی۔

 

ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزرائے خارجہ نے عالمی قوانین کی پاسداری، ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات، ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی اہمیت پر زور دیا۔

 

رہنماؤں نے سمندری راستوں کی حفاظت اور آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔

 

تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کی حمایت کی۔

 

یہ پیش رفت یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

 

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف کارروائیاں کیں اور سعودی عرب کو بھی مختلف مواقع پر نشانہ بنایا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

 

حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب میں مختلف اہداف پر متعدد میزائل اور ڈرون داغے، جبکہ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے فائر کیے گئے 6 بیلسٹک میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے۔

 

حملوں کے بعد سعودی عرب نے مکہ مکرمہ، جدہ اور بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ یَنبع سمیت مختلف علاقوں میں ہنگامی الرٹس جاری کیے۔

 

ترک خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچک بایراکتار اوغلو جمعے کو سعودی عرب روانہ ہوں گے، جہاں وہ مکہ دفاعی اتحاد کے چیف آف اسٹاف اجلاس میں شرکت کریں گے۔

 

ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق جنرل سلچک بایراکتار اوغلو اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب کا دورہ کریں گے، تاہم اجلاس کے ایجنڈے، مقام اور دیگر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

 

واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

 

معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

 

معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تینوں ممالک نے مختلف طریقہ کار تشکیل دینا شروع کر دیے ہیں۔ 31 اگست کو استنبول میں اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی ہوا، جس میں سعودی عرب میں معاہدے کا سیکریٹریٹ قائم کرنے اور فوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں