شہری کا موبائل چھین کر دریا میں پھینکنے پر ہنگری کے وزیرِ اعظم کا پارلیمانی استثنیٰ ختم
ہنگری کی پارلیمنٹ نے وزیرِ اعظم پیٹر ماگیار کا پارلیمانی استثنیٰ ختم کر دیا ہے، جس کے بعد ان کے خلاف فوجداری تحقیقات کا راستہ کھل گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹر ماگیار پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک شہری کا موبائل فون چھین کر دریائے ڈینیوب میں پھینک دیا تھا۔
ہنگری کے وزیرِ اعظم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ سیاسی مقاصد کے تحت بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور اپنے تمام اقدامات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
پیٹر ماگیار نے اپنی جماعت کے ارکان سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کا پارلیمانی استثنیٰ ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیں تاکہ تحقیقات کا عمل آگے بڑھ سکے۔
استغاثہ کے مطابق جون 2024 میں بڈاپسٹ کے ایک نائٹ کلب میں پیٹر ماگیار اور ایک شہری کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔
الزام کے مطابق شہری وزیرِ اعظم کی ویڈیو بنا رہا تھا، جس پر پیٹر ماگیار نے اس کے ہاتھ سے موبائل فون لے لیا اور بعد میں اسے دریائے ڈینیوب میں پھینک دیا۔ پولیس نے بعد میں موبائل فون دریا سے برآمد کر لیا تھا، جس کی مالیت تقریباً 300 امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پیر کو ہونے والے غیر معمولی پارلیمانی اجلاس میں پیٹر ماگیار کے علاوہ سابق وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کی حکومت کے دو سابق وزرا کا پارلیمانی استثنیٰ بھی ختم کیا گیا، جن کے خلاف الگ الگ مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں۔