World

عراق میں امریکی فوج کا دو دہائیوں پر محیط فوجی مشن ختم

عراق میں امریکی فوج کا دو دہائیوں پر محیط فوجی مشن ختم
۸ گھنٹے پہلے

عراق سے امریکی فوج کا دو دہائیوں پر محیط فوجی مشن اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے اور امریکی فورسز بدھ تک ملک میں موجود اپنے آخری فوجی اڈے بھی چھوڑ دیں گی۔

 

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے انخلا کے بعد عراقی سیکیورٹی ماہرین نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ ایران نواز مسلح گروہوں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے جبکہ داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔

 

عراقی سیکیورٹی تجزیہ کار جاسم البہدلی کے مطابق امریکی قیادت میں اتحاد کا انخلا ایران کے لیے اسٹریٹجک فائدہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی فوجی موجودگی کئی سال سے عراق میں تہران کے اثر و رسوخ کے لیے ایک رکاوٹ سمجھی جاتی رہی ہے۔

 

ایران نواز مسلح گروہوں کے اتحاد "اسلامک ریزسٹنس اِن عراق" کے کمانڈر ابو مجتبیٰ الیسیری نے امریکی انخلا کو عراقی مزاحمتی گروہوں اور عوام کی کامیابی قرار دیا۔

 

تاہم عراق کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک ابھی مکمل طور پر سیکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار نہیں۔ فالوجہ کے قبائلی رہنما عبدالرحمٰن الزبیعی نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی قیادت میں اتحاد کے انخلا سے ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے۔

 

حالیہ ایران امریکا جنگ کے دوران عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا، جہاں ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں سے 7 عراق میں مارے گئے۔

 

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے نائب سربراہ امیر حیات مقدم نے امریکی فوج کے عراق اور خطے سے انخلا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عراق میں پائیدار سکیورٹی قائم ہوگی۔

 

دوسری جانب عراقی سیکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکی انٹیلی جنس، لاجسٹک مدد اور ڈرون سپورٹ ختم ہونے سے داعش کے خفیہ سیل دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔

 

کرد کمانڈر سیرون بارزانی نے کہا کہ اتحادی افواج کے انخلا کی اطلاعات کے بعد داعش جنگجوؤں کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔

 

امریکی فوج کا موجودہ انخلا 2024 میں سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ہو رہا ہے، جس پر موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ عمل درآمد کر رہی ہے۔

 

واضح رہے کہ امریکا نے 2003 میں عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت ختم کی تھی۔ امریکی فوج 2011 میں عراق سے واپس چلی گئی تھی، تاہم 2014 میں داعش کے عروج کے بعد امریکی قیادت میں اتحادی افواج دوبارہ عراق واپس آئیں اور 2017 تک داعش کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں