شاداب کی سلیکشن پر توصیف سے کبھی فون پر بات نہیں ہوئی، ثقلین؛ وائس میسج میڈیا پر چلا دیا
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق نے سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کسی کھلاڑی کی سلیکشن کے معاملے میں کوئی ذاتی کردار نہیں تھا۔
ثقلین مشتاق نے ایک ٹی وی پروگرام میں توصیف احمد کی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی توصیف احمد سے کبھی تفصیلی فون پر بات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق چند مرتبہ دونوں جانب سے کالز مس ہوئیں، جس کے بعد انہوں نے ایک وائس میسج بھیجا تھا جو تقریباً دو سے ڈھائی سال پرانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وائس میسج کو عوام کے سامنے لانے کی اجازت ان کی جانب سے موجود ہے۔ ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سینئرز کا احترام کرتے ہیں، تاہم جب کسی کی عزت یا دیانت داری پر سوال اٹھایا جائے تو وضاحت دینا ضروری ہو جاتا ہے۔
سابق کوچ نے کہا کہ مذکورہ معاملے کے بعد بھی ان کی توصیف احمد سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ توصیف احمد نے الزام لگایا تھا کہ ثقلین مشتاق نے اپنے داماد شاداب خان کی سلیکشن کے لیے انہیں پیغام بھیجا تھا۔ جواب میں ثقلین نے کہا تھا کہ اگر ایسا پیغام ہے تو اسے منظر عام پر لے آیا جائے۔
ثقلین مشتاق نے بعد ازاں اپنے انٹرویو کے دوران وہ پیغام خود چلا دیا۔
ثقلین مشتاق نے سابق کھلاڑیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں گفتگو کرتے وقت احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیونکہ کسی فرد سے متعلق بیان اس کے خاندان تک بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق کرکٹرز اور میڈیا کی گفتگو نوجوان نسل پر اثر ڈالتی ہے، اس لیے اختلافات کو ذاتی معاملہ بنانے کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔
ثقلین مشتاق نے بتایا کہ شاداب خان سے ان کی ملاقاتیں اب بہت کم ہوتی ہیں اور کرکٹ یا سلیکشن معاملات پر ان کے درمیان کوئی خصوصی گفتگو نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اپنے بچوں کی طرح کامیابی، عزت اور بہتر مستقبل کی دعا کرتے ہیں۔