World

تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، یورپی یونین کا ایندھن بحران مزید سنگین

تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، یورپی یونین کا ایندھن بحران مزید سنگین
۱۱ گھنٹے پہلے

ایران جنگ کے بعد عالمی توانائی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے یورپی یونین کے لیے ایندھن کا بحران مزید سنگین بنا دیا ہے۔

 

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یورپی یونین نے جنگ کے بعد توانائی کی مقدار میں نمایاں اضافہ کیے بغیر صرف قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تقریباً 100 ارب یورو اضافی ادا کیے۔

 

یورپی کمشنر برائے توانائی ڈین جورگنسن نے کہا کہ اضافی اخراجات کے باوجود یورپ کو توانائی کی اضافی فراہمی حاصل نہیں ہوئی۔

 

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔

 

آبنائے ہرمز میں ایرانی کنٹرول اور بندش کے باعث یورپ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے اثرات ٹرانسپورٹ، صنعت اور عام صارفین پر پڑ رہے ہیں۔

 

یورپی ممالک بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ جرمنی نے اکتوبر سے دسمبر تک پیٹرول اور ڈیزل پر عارضی ٹیکس کمی کی منظوری دی ہے، جبکہ دیگر ممالک بھی سبسڈی اور ٹیکس اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

 

دوسری جانب یورپ کی بڑی فضائی کمپنیوں کو بھی مہنگے ایندھن کے باعث اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔ جرمن ایئرلائن لوفتھانزا نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ رواں سال جیٹ فیول کے اخراجات پہلے کے تخمینے سے بھی بڑھ سکتے ہیں۔

 

امریکی صارفین بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہو رہے ہیں، جہاں گزشتہ سال کے مقابلے میں پیٹرول اور ڈیزل پر اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق مارچ سے جاری ایران جنگ کے اثرات صرف جنگی علاقے تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ، مہنگائی اور صارفین کے بجٹ تک پہنچ گئے ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں