World

بحیرہ بالٹک میں کشیدگی، روس کی نیٹو کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی وارننگ

بحیرہ بالٹک میں کشیدگی، روس کی نیٹو کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی وارننگ
۳ گھنٹے پہلے

روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے بحیرہ بالٹک سے متصل روسی علاقے کیلینن گراڈ کو روس کے باقی حصے سے الگ کرنے کی کوشش کی تو ماسکو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

 

رائٹرز کے مطابق نیٹو کو بھیجی گئی ایک دستاویز میں روس نے اتحاد پر خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ راستہ اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ اس سے براہ راست مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

 

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ تنازع شروع ہونے کی صورت میں روس نیٹو رکن ممالک میں موجود ان حکومتی اور فوجی مراکز کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جہاں سے اہم فیصلے اور فوجی احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔

 

روس کے مطابق اگر نیٹو ممالک کیلینن گراڈ کے علاقے کو روس کے دیگر حصوں سے الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ماسکو اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے تمام دستیاب صلاحیتوں، جن میں جوہری ہتھیار بھی شامل ہیں، استعمال کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

 

روس کی جانب سے دی گئی اس وارننگ کے علاوہ گزشتہ تین روز کے دوران کم از کم تین یورپی ممالک میں روسی سفارت خانوں نے بھی بیانات جاری کیے، جن میں نیٹو پر فوجی مشقوں اور کیلینن گراڈ سے متعلق مبینہ جنگی منصوبہ بندی کے ذریعے کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا گیا۔

 

روس نے یورپ کے لیے خطرہ ہونے کے مغربی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو کا نیٹو ممالک پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں۔

 

روسی بیانات میں کہا گیا ہے کہ کیلینن گراڈ کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب سخت ردعمل کے ذریعے دیا جائے گا۔

 

یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب روس اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپی ممالک روس پر براعظم میں تخریب کاری اور آتش زنی سمیت مختلف کارروائیوں کے ذریعے ہائبرڈ جنگ تیز کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

 

روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور مغربی رہنماؤں کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کرتا ہے کہ وہ نیٹو کے کسی ملک پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

 

نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے تصدیق کی ہے کہ روس نے اتحاد کو ایک نان پیپر بھیجا ہے، تاہم انہوں نے اس کے مندرجات ظاہر نہیں کیے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے اور اس کی سرگرمیاں یا فوجی مشقیں روس کے کسی حصے کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ انہوں نے طاقت کے استعمال کی دھمکیوں اور جوہری بیانات کی مذمت کرتے ہوئے روس سے یوکرین کے خلاف جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں