Pakistan

عطا تارڑ نے گورنر راج کے سوال کو قبل از وقت قرار دے دیا

عطا تارڑ نے گورنر راج کے سوال کو قبل از وقت قرار دے دیا
۲ گھنٹے پہلے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان سے متعلق سوال کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تھری ایم پی او کے تحت نظربندی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے۔

 

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت گورننس بہتر بنانے اور دہشت گردی روکنے میں ناکام رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے، جبکہ این ایف سی کے تحت ہر سال دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اضافی فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

 

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گورنر راج کا سوال فی الحال قبل از وقت ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں صحت، تعلیم سمیت کئی شعبوں کی صورتحال خراب ہو چکی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی طور پر کمزور ہو چکی ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اتنے مضبوط ہیں کہ لانگ مارچ کر سکیں۔

 

عطا تارڑ نے کہا کہ وہ کوہاٹ، چارسدہ اور پشاور سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں جہاں گورننس کی ناکامی واضح نظر آتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ لیکن عوام کو دہشت گردی سے نجات دلانا سب سے اہم ہے۔

 

وفاقی وزیر نے کانسٹیبل فہیم اللہ کے گھر جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاست اتنی اہم نہیں کہ اسے انسانی جانوں پر ترجیح دی جائے۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان حکومت دہشت گردی کی حمایت کر رہی ہے، پاکستان نے دہشت گردوں کو بھرپور جواب دیا ہے اور آئندہ بھی دے گا۔

 

طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی پر مشاورت جاری ہے 

 

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ صدر مملکت کرتے ہیں جبکہ اس کی منظوری پارلیمنٹ دیتی ہے، اور اس وقت خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے امکان پر مشاورت جاری ہے۔

 

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ منظوری دے تو آئینی طریقہ کار کے تحت ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی بھی فرد کو دے سکتی ہے، جبکہ یہ اختیارات گورنر کو بھی منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایمرجنسی کے سیاسی اثرات سامنے آتے ہیں تو انہیں برداشت کرنا ہوگا۔

 

طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی بار بار کال کے باوجود تینوں صوبوں میں خاطر خواہ افراد جمع نہیں ہو سکے۔

 

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 20 لاکھ افراد لانے کی بات کی تھی لیکن 20 ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوئے، جبکہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد 4 اکتوبر کی تاریخ دی گئی۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہی ہے اور دہشت گردی میں اضافے کو روکنا سب سے ضروری ہے۔

 

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی 4 اکتوبر کو بھی ناکام ہوگی، کیونکہ پارٹی کے اندر اختلافات اور دھڑے بندی موجود ہے۔ 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں