Entertainment

بٹگرام کیبل کار حادثے کی کہانی پر مبنی ڈاکیومنٹری فلم آسکرز کی بین الاقوامی فلم کیٹیگری کیلئے منتخب

بٹگرام کیبل کار حادثے کی کہانی پر مبنی ڈاکیومنٹری فلم آسکرز کی بین الاقوامی فلم کیٹیگری کیلئے منتخب
۷ گھنٹے پہلے

پاکستان نے مو نقوی کی ڈاکیومنٹری فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو 99ویں اکیڈمی ایوارڈز یعنی آسکرز کی بہترین بین الاقوامی فلم کی کیٹیگری کے لیے باضابطہ نمائندہ فلم منتخب کرلیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے اس کیٹیگری میں کسی ڈاکیومنٹری کو اپنی نمائندہ فلم کے طور پر منتخب کیا ہے۔

 

’ہینگنگ بائی اے وائر‘ 2023 میں شمالی پاکستان کے ضلع بٹگرام میں پیش آنے والے کیبل کار حادثے کی کہانی پر مبنی ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی۔ حادثے میں 6 اسکول کے بچوں سمیت 8 افراد زمین سے تقریباً 900 فٹ بلندی پر ایک کیبل کار میں پھنس گئے تھے۔

 

یہ واقعہ کیبل کار کو سہارا دینے والی تار ٹوٹنے کے بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں گاڑی خطرناک انداز میں فضا میں معلق ہوگئی اور اس میں موجود افراد کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑگئیں۔ کئی گھنٹوں پر محیط ریسکیو آپریشن میں مقامی افراد، ماہرین اور سرکاری اہلکاروں نے حصہ لیا۔

 

مو نقوی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم کو مو نقوی اور بلال سمیع نے تحریر اور پروڈیوس کیا ہے۔ ڈاکیومنٹری میں عینی شاہدین کی ویڈیوز، حادثے سے بچ جانے والے افراد کے بیانات اور ریسکیو آپریشن میں شریک لوگوں سے حاصل کردہ مواد شامل کیا گیا ہے۔

 

فلم میں مقامی افراد کی ان کوششوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے جنہوں نے سرکاری امدادی کارروائی کے ساتھ ساتھ پھنسے ہوئے افراد کو بچانے میں کردار ادا کیا۔ ان میں کیبل کار کی مرمت کرنے والے صاحب خان بھی شامل ہیں، جو کیبل کاروں کے تجربے اور خطرناک فضائی کرتب کے باعث اپنے علاقے میں ’’اسکائی پائریٹ‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

 

ریسکیو کوششوں میں علی سواتی نے بھی اہم کردار ادا کیا، جن کے پاس معیاری زِپ لائن کا سامان موجود تھا۔ دوسری جانب ضلع کی پولیس سربراہ سونیا شمروز نے آپریشن کی نگرانی کی، جنہیں ڈاکیومنٹری میں ایک سخت گیر اور فیصلہ کن سرکاری افسر کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

 

مو نقوی نے کہا کہ آسکرز کی بین الاقوامی فلم کیٹیگری میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ بظاہر کسی فلمی تباہی کے منظر جیسا محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ ہوا اور ریسکیو کے دوران بنائی گئی حقیقی ویڈیوز بھی فلم کا حصہ ہیں۔

 

مو نقوی کے مطابق مقامی افراد نے خود ریسکیو کی کوششوں کی ویڈیوز بنائیں اور یہ مواد فلم سازوں کو فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں لوگوں کی مدد کرنا، وسائل پیدا کرنا اور پورے واقعے کو ریکارڈ کرنا ڈاکیومنٹری کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔

 

فلم کا پریمیئر رواں سال سن ڈانس فلم فیسٹیول کے ورلڈ سنیما ڈاکیومنٹری مقابلے میں ہوا۔ بعد ازاں ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ ٹرائ بیکا فیسٹیول، سیئٹل انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور آسٹریلیا کے سڈنی فلم فیسٹیول میں بھی پیش کی گئی۔ فلم آئندہ جمعے کو امریکا کی ریاست اوریگن میں ہونے والے 23ویں بینڈ فلم فیسٹیول میں بھی دکھائی جائے گی۔

 

مو نقوی نے سن ڈانس کے لیے بنائی گئی ایک ویڈیو میں بتایا کہ حادثے کا مقام پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں مناسب سڑکوں کی کمی ہے اور مقامی افراد آمدورفت کے لیے عارضی کیبل کاروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نظام انتہائی خطرناک ہے اور فلم کی تیاری کے دوران انہوں نے خود بھی ایسی ہی ایک کیبل کار میں سفر کیا۔

 

’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو ایور ونڈر اسٹوڈیو، یونیورسل پکچرز کانٹینٹ گروپ، مائنڈ ہاؤس پروڈکشنز اور 64th اسٹریٹ میڈیا نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ برطانیہ میں اس کی تھیٹر ڈسٹری بیوشن ڈاگ ووف جبکہ امریکا میں ابراموراما کے پاس ہے۔ فلم کی اسٹریمنگ ریلیز پیراماؤنٹ پلس پر بھی متوقع ہے۔

 

پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی کی نائب چیئرپرسن ثنا زہرا جعفری نے فلم کے انتخاب کو پاکستانی ڈاکیومنٹری فلم سازی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ انتخاب شمالی پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک غیر معمولی حقیقی کہانی کو آسکر کی بین الاقوامی فلم کی دوڑ میں لے آیا ہے۔

 

یہ انتخاب پاکستانی سنیما کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ پہلی مرتبہ پاکستان نے بہترین بین الاقوامی فلم کے آسکر مقابلے کے لیے کسی ڈاکیومنٹری کو اپنی نمائندہ فلم بنایا ہے۔ تاہم یہ انتخاب آسکر نامزدگی کی ضمانت نہیں، بلکہ فلم کو حتمی نامزد امیدواروں میں شامل ہونے کے لیے اکیڈمی کے اگلے انتخابی مرحلے سے گزرنا ہوگا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں