Sports

حیدرآباد کا تاریخی نیاز کرکٹ سٹیڈیم 20 سال کے لیے پی سی بی کے حوالے

حیدرآباد کا تاریخی نیاز کرکٹ سٹیڈیم 20 سال کے لیے پی سی بی کے حوالے
۹ گھنٹے پہلے

حیدرآباد کے تاریخی نیاز سٹیڈیم کی انتظامی ذمہ داری پاکستان کرکٹ بورڈ نے 20 سال کے لیے سنبھال لی ہے، جبکہ پی سی بی نے سٹیڈیم کو عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ کرکے اسے دوبارہ اہم کرکٹ مرکز بنانے کا اعلان کیا ہے۔

 

حیدرآباد میں منتقلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر سید نے کہا کہ شہر کو ملک کی وسیع تر کھیلوں کی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے گا اور نیاز سٹیڈیم میں عالمی معیار کی سہولیات متعارف کرائی جائیں گی۔

 

انہوں نے بتایا کہ سٹیڈیم میں فلڈ لائٹس نصب کی جائیں گی جبکہ عالمی معیار کے مطابق تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پی سی بی فوری طور پر گراؤنڈ اور پچ پر کام شروع کرے گا تاکہ یہاں اہم ملکی اور بین الاقوامی میچز کا انعقاد ممکن بنایا جاسکے۔

 

سمیر سید نے کہا کہ پی سی بی کی کوشش ہوگی کہ پی ایس ایل 12 میں نیاز سٹیڈیم میں کم از کم ایک میچ کرایا جائے، جبکہ پی ایس ایل 13 میں یہاں کئی میچز منعقد کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد میں جنوری یا فروری سے علاقائی کرکٹ اکیڈمی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جہاں نوجوان کرکٹرز کو کوچز اور فزیوتھراپسٹس کی نگرانی میں تربیت دی جائے گی۔

 

پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے مطابق نیاز سٹیڈیم میں فرسٹ کلاس کرکٹ بھی بحال کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ باقاعدگی سے میچز کے انعقاد سے سٹیڈیم کا ماحول اور اس کی اہمیت دوبارہ بحال ہوگی۔

 

حیدرآباد کے میئر کاشف شورو نے کہا کہ شہر نے کئی ایسے کرکٹرز پیدا کیے جنہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرکے ملک کا نام روشن کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گراؤنڈ اس حوالے سے خوش قسمت رہا ہے کہ پاکستان یہاں کبھی نہیں ہارا۔ ان کے مطابق محدود وسائل کے باوجود حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے سٹیڈیم کی دیکھ بھال اور میچز کے انعقاد کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔

 

پی سی بی اور حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے معاہدے کے تحت پی سی بی شہری ادارے کو ماہانہ 10 ہزار روپے کرایہ ادا کرے گا، جبکہ میونسپل کارپوریشن کو سٹیڈیم میں ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 20 فیصد حصہ ملے گا۔

 

سٹیڈیم کی ملکیت حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے پاس ہی رہے گی، تاہم پی سی بی کو انتظامی معاملات سمیت تجارتی اور نشریاتی حقوق پر مکمل اختیار حاصل ہوگا۔

 

معاہدے کے تحت پی سی بی نیاز سٹیڈیم کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرے گا تاکہ یہاں بین الاقوامی، فرسٹ کلاس اور پی ایس ایل میچز کا انعقاد ممکن ہوسکے۔

 

1959 میں قائم ہونے والے نیاز سٹیڈیم میں تقریباً 15 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہاں 1962 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز ہوا، جبکہ 1972-73 کے سیزن میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میچ کے ساتھ پہلے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کی گئی، جو ڈرا ہوگیا تھا۔

 

نیاز سٹیڈیم میں بعد ازاں مزید 4 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے، جن میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کرکٹ تاریخ کا 1000واں ٹیسٹ بھی شامل تھا۔

 

1987 کے عالمی کپ میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ بھی نیاز سٹیڈیم میں کھیلا گیا، جس میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی اور اس موقع پر سٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

 

تاہم سہولیات کی کمی اور کھلاڑیوں کی رہائش سے متعلق مسائل کے باعث نیاز سٹیڈیم کی بین الاقوامی حیثیت بتدریج متاثر ہوئی اور یہاں آخری ایک روزہ میچ 1997-98 کے سیزن میں کھیلا گیا۔

 

پی سی بی نے 2007 میں سٹیڈیم کو اپ گریڈ کیا، جس کے نتیجے میں جنوری 2008 میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ایک روزہ میچ کا انعقاد ممکن ہوا اور حیدرآباد میں ایک دہائی بعد بین الاقوامی کرکٹ واپس آئی۔

 

نیاز سٹیڈیم 11 سال تک پی سی بی کے زیر انتظام رہا، تاہم قاسم آباد میونسپل کمیٹی نے 2 اپریل 2018 کو مفاہمتی یادداشت منسوخ کرکے سٹیڈیم کا انتظام دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں