Breaking News

مذاکرات سے پہلے لانگ مارچ ختم کرنے کی حکومتی شرط قبول نہیں، پی ٹی آئی

مذاکرات سے پہلے لانگ مارچ ختم کرنے کی حکومتی شرط قبول نہیں، پی ٹی آئی
۸ گھنٹے پہلے

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ اگر حکومت مذاکرات کے لیے رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے، تاہم مذاکرات کی بحالی کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کو پہلی شرط قرار دیا جائے۔

 

ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے اخونزادہ حسین یوسفزئی کے ذریعے اپوزیشن رہنماؤں کو پیغام بھجوایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی رہائی کے ذریعے مثبت پیش رفت کا آغاز کرسکتی ہے، جبکہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی۔

 

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر ڈالنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے ایک دو مزید دور ہوتے تو معاملہ کسی نتیجے تک پہنچ سکتا تھا۔

 

راولپنڈی میں پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش صرف رسمی نہیں ہونی چاہیے بلکہ بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات میں نیک نیتی سے حصہ لیا اور اس کے مطالبات میں کوئی غیر قانونی مطالبہ شامل نہیں تھا۔

 

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تقریباً ایک سال سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوسکی اور پارٹی قیادت کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں، ارکان پارلیمنٹ اور بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ کی گرفتاریوں کا سلسلہ روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔

 

پی ٹی آئی کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ تسلیم نہ ہونا تھا۔ انہوں نے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے لانگ مارچ ختم کرنے کی حکومتی شرط مسترد کردی۔

 

علی ظفر کا کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم یا پی ٹی آئی کا کوئی بھی رہنما بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت کے بغیر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پی ٹی آئی کے کسی رہنما کی عمران خان سے ملاقات کرا دے اور بانی پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے کی ہدایت کریں تو احتجاج ختم کردیا جائے گا۔

 

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے بھی کہا کہ حکومت سے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے پاس ہے، اگر حکومت خلوص کے ساتھ مذاکرات چاہتی ہے تو ان سے رابطہ کرے۔

 

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے خلاف تعاون سے کبھی انکار نہیں کیا اور کسی بھی آپریشن کے معاملے میں خیبرپختونخوا کا مؤقف سنا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت، ڈاکٹروں تک رسائی اور ان سے ملاقات پارٹی کے بنیادی مطالبات میں شامل ہیں۔

 

سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ حکومت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ پی ٹی آئی اجتماعی مشاورت سے کرے گی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق مذاکرات کو پہلے لانگ مارچ ختم کرنے کی شرط سے مشروط نہیں کیا جاسکتا اور مستقبل کے کسی بھی سیاسی فیصلے میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں