نوبیل نہ ملنے پر ٹرمپ شدید برہم، مجھے ایک نہیں 8 نوبیل امن انعام ملنے چاہئیں تھے،امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام 2026 نہ ملنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایک نہیں بلکہ 8 نوبیل امن انعام ملنے چاہئیں تھے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 8 جنگیں ختم کرائیں اور ایران سمیت روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ختم کرانے کے بھی قریب ہیں۔ آٹھ جنگیں ختم کرانے کے ان کے دعوے کو حالیہ بیانات میں نوبیل امن انعام کے حق میں ان کی دلیل کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانا ہی نوبیل امن انعام کے لیے کافی تھا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا اور مشرقِ وسطیٰ کو تباہی سے بچایا۔
تاہم نوبیل امن انعام 2026 جنوبی افریقا کی قانون دان ناوانیتھم ’’ناوی‘‘ پلے کو امن اور عالمی قانون کے فروغ کے لیے دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے نوبیل امن انعام کی حقدار قرار پانے والی ناوی پلے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے ایسا کیا کارنامہ انجام دیا ہے اور دعویٰ کیا کہ وہ صرف اسرائیل سے نفرت کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ یہ ٹرمپ کا ذاتی تبصرہ ہے، جبکہ ناوی پلے کئی دہائیوں سے انسانی حقوق، عالمی قانون اور جنگی جرائم کے احتساب کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امن کے لیے ان کی کامیابیوں جیسا ریکارڈ تاریخ میں کسی اور کا نہیں رہا اور انہوں نے تاریخ میں سب سے زیادہ لوگوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔
امریکی صدر نے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور 2025 کی نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے اس سے قبل ٹرمپ کو اپنا نوبیل میڈل بطور تحفہ دیا تھا اور ان کی حمایت پر اظہار تشکر کیا تھا۔ تاہم نوبیل انعام ٹرمپ کو منتقل نہیں ہوا اور وہ نوبیل امن انعام کے حقدار نہیں بنے۔