مجھے خریدا نہیں جا سکتا، دھمکیاں دینے والے سن لیں اب معاملہ اقتدار یا کرسی کا نہیں رہا،سہیل آفریدی
لانگ مارچ کے ساتویں روز چارسدہ سے روانگی سے قبل شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 11 اکتوبر کو ملک بھر سے کارکن صوابی پہنچیں گے جبکہ 13 اکتوبر کو صوابی میں آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے چارسدہ کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے جذبے اور عزم کو سلام پیش کرتے ہیں اور اسی جذبے کے ساتھ ’ظالمانہ نظام‘ کا مقابلہ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے گورنر راج سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دھمکیاں دینے والے سن لیں کہ اب معاملہ صرف اقتدار یا کرسی کا نہیں رہا۔ ان کے بقول وہ اپنے قائد اور پختونوں کے حقوق کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں اور انہیں کسی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ ایک سیاسی جدوجہد ہے جو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر پرامن انداز میں لڑی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے، لیکن اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ دہشتگردی اور امن و امان کے معاملات میں غلط پالیسیوں کے باعث صوبے کے حالات متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے بڑی قربانیاں دے کر امن بحال کیا تھا، لیکن اسے ’بند کمروں کے فیصلوں‘ کی نذر کر دیا گیا۔
انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی منزل پر نظر رکھیں، ثابت قدم رہیں اور تحریک کے لیے اپنا جذبہ برقرار رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم پر مبنی کسی نظام یا اپنے لوگوں کے خلاف کسی پالیسی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔