خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر اتفاق، وفاقی کابینہ منظوری دے گی
اسلام آباد (رپورٹ عدنان نصیر): وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے اتوار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حتمی منظوری لی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بھی طلب کرلیے گئے ہیں، جہاں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے توثیق حاصل کرنے کا امکان ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ ملاقات کے اعلامیے کے مطابق ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے بھجوائی گئی رپورٹ پر بھی غور کیا گیا۔ گورنر نے خیبر پختونخوا میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق رپورٹ وفاق کو ارسال کی ہے۔
اجلاس میں ضم شدہ اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پر غور کیا گیا۔ عوام کے تحفظ کے لیے اہم اختیارات وفاق کے استعمال کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی، جبکہ آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 کے تحت مختلف آپشنز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے وزیراعظم کی معاونت کی۔
صدر مملکت کی معاونت سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے کی۔اجلاس میں منگل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس اتوار کی صبح ساڑھے 9 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کی حتمی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔