World

سعودی عرب کو میزائل انٹرسیپٹرز کی قلت، حوثیوں کو سخت جواب دینے کا اعلان، یمن میں لڑائی شدید

سعودی عرب کو میزائل انٹرسیپٹرز کی قلت، حوثیوں کو سخت جواب دینے کا اعلان، یمن میں لڑائی شدید
۱۰ گھنٹے پہلے

یمن کے حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث سعودی عرب کو میزائل انٹرسیپٹرز کی قلت کا سامنا ہے جبکہ سعودی عرب نے حوثیوں کو سخت جواب دینے کا اعلان کردیا ہے اور یمن میں لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے۔

 

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے سعودی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے بڑھتے ہوئے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے پاس فضائی دفاعی میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب بیرونِ ملک سے مزید فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ حوثیوں کے حملوں میں سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

 

اخبار سے گفتگو کرنے والے معاملے سے باخبر افراد کے مطابق سعودی عرب نے شاہی محلات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ملک بھر میں فضائی دفاعی بیٹریوں کی تعیناتی میں بھی رد و بدل کیا ہے۔

 

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن نے اب تک سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے فوجی مدد کی درخواستوں پر آمادگی ظاہر نہیں کی، تاہم امریکا نے فوجی مشیر بھیجے ہیں۔

 

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ریاض، ابہا، جازان اور نجران میں 4 سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

 

سعودی حکام کے مطابق جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ ابہا اور ریاض پر حملوں میں 3 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے۔

 

حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ربیغ میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم سعودی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ حوثیوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔

 

دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے یمنی صوبے تعز کے علاقے حیفان اور شمالی صوبے صعدہ میں حملوں کی اطلاع دی ہے جبکہ یمنی حکومتی افواج نے جبل صبر پر حوثیوں کا ایک بغیر پائلٹ طیارہ مار گرانے کی ویڈیو جاری کی ہے۔

 

سعودی اتحاد کے مطابق الخرج کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور مشرقی صوبے میں ایک بغیر پائلٹ طیارہ تباہ کردیا گیا۔

 

یمنی حکومتی افواج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللّٰہ النزیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 2 ہزار فوجی کارروائیوں میں ایک ہزار 150 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک، گولہ بارود کے ذخائر اور 180 جنگی، نقل و حمل اور رسد کی گاڑیاں تباہ کردی گئیں۔ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

 

سعودی حمایت یافتہ یمنی افواج نے 4 اکتوبر کو حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ’فجرِ یمن‘ کارروائی شروع کی تھی۔

 

یمنی حکومتی افواج نے بندرگاہی شہر المخا اور آبنائے باب المندب کے قریب ضلع ذباب پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ کیا تھا جسے حوثیوں نے مسترد کردیا، جبکہ تعز کا محاصرہ مزید سخت ہوگیا ہے اور مأرب اور الجوف میں بھی لڑائی پھیل گئی ہے۔

 

رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یمن میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کی لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے۔ مسلسل حملوں اور امریکی فوجی مداخلت کے امکان نے علاقائی تصادم اور بین الاقوامی بحری تجارت متاثر ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں