World

حوثیوں کا سعودی ایئرپورٹ اور ایئربیس پر حملوں کا دعویٰ، او آئی سی کی مذمت

حوثیوں کا سعودی ایئرپورٹ اور ایئربیس پر حملوں کا دعویٰ، او آئی سی کی مذمت
۱۱ گھنٹے پہلے

یمن کی حوثی تحریک نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی حکام نے حالیہ حملوں کے دوران بعض میزائلوں کے فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ 

دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ 

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بتایا کہ گروپ نے شام کے وقت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کارروائی کی۔ 

حوثی ترجمان کے مطابق ایک دوسری کارروائی میں یمن کی سرحد کے قریب واقع خمیس مشیط کے فوجی ایئربیس پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ 

یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ دونوں کارروائیاں کامیاب رہیں، تاہم سعودی حکام کی جانب سے ان مخصوص حملوں کے نتائج کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ 

اس کے برعکس سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے مؤقف اختیار کیا کہ سعودی عرب کی جانب داغے گئے متعدد میزائل فضائی دفاعی نظام نے اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیے۔ 

اتحادی فوج کے ترجمان کے مطابق خمیس مشیط کی جانب آنے والے دو بیلسٹک میزائل فضا میں ہی روک لیے گئے، جبکہ ریاض کی طرف بڑھنے والے ایک اور میزائل کو بھی کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ 

یوں حوثیوں کی جانب سے حملوں کی کامیابی کے دعووں اور سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے میزائلوں کو ناکارہ بنانے کے بیانات میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔ 

سعودی عرب جدید دفاعی سازوسامان اور فوجی صلاحیتوں پر بھاری سرمایہ خرچ کرتا ہے، تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران حوثی میزائل اور ڈرون حملوں نے مملکت کے اہم شہری اور فوجی مراکز کی سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب کے بعض اعلیٰ عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں داغے گئے بعض میزائل ملک کے فضائی دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔ 

رپورٹ کے مطابق سعودی دارالحکومت کا شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ حوثیوں کے اہم اہداف میں شامل رہا ہے، جہاں ایک ہی ہفتے کے دوران متعدد بار میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 

ہفتے کے روز ایئرپورٹ پر ہونے والے شدید حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے، جبکہ بعد کی بعض بین الاقوامی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 13 بتائی گئی۔ 

ان حملوں کے باعث ریاض ایئرپورٹ کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور فضائی سفر کی سلامتی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا ہوئے۔ 

سعودی حکام اس پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حوثیوں نے ابتدائی مرحلے میں ڈرونز کے ذریعے فضائی دفاعی نظام کی توجہ منتشر کی یا اس کی صلاحیت کو متاثر کیا، جس کے بعد مختلف اقسام کے میزائل اپنے اہداف کی جانب بڑھنے میں کامیاب ہوئے۔ 

تحقیقاتی حکام کے سامنے موجود ایک امکان یہ بھی ہے کہ ڈرون حملوں کے ذریعے دفاعی نظام کو مصروف رکھنے کے بعد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے گئے ہوں۔ 

تاہم فضائی دفاعی نظام کی ممکنہ ناکامی کی اصل تکنیکی وجوہات کے بارے میں ابھی کوئی حتمی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ 

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ یمن سے ریاض کی جانب میزائل داغے جانے کے باوجود پیشگی انتباہ کے نظام میں مبینہ تاخیر کیوں ہوئی۔ 

ریاض یمن کے متعلقہ علاقوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے، اس لیے حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اتنے فاصلے سے آنے والے میزائلوں کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کے لیے مناسب وقت کیوں دستیاب نہ ہو سکا۔ 

تحقیقات میں سعودی فضائی دفاعی نظام، نگرانی کے آلات اور ابتدائی وارننگ کے انتظامات کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک اس سے پہلے بھی سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے، جبکہ حالیہ کارروائیوں نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ 

دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم نے سعودی عرب کے شہری مراکز، ایئرپورٹس اور جنوبی علاقوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے۔ 

او آئی سی کے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے حملے مملکت کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ پورے خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ 

تنظیم نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ 

او آئی سی کے مطابق اس نوعیت کے حملوں کا تسلسل خطے میں مزید بدامنی پیدا کر سکتا ہے اور یمن میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے جاری علاقائی و بین الاقوامی سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 

تنظیم نے ان کارروائیوں کو خطرناک اور ناقابل قبول اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی امن کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ 

او آئی سی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یمن کے تنازع کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے تاکہ مزید جانی نقصان اور علاقائی کشیدگی سے بچا جا سکے۔ 

اسلامی تعاون تنظیم نے سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ 

موجودہ صورتحال میں ایک جانب حوثی تحریک سعودی عرب کے اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے بیانات دے رہا ہے۔ 

اس دوران حالیہ مہلک حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی کے بارے میں سعودی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ او آئی سی سمیت علاقائی ادارے مزید کشیدگی روکنے اور امن کی کوششوں کو برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں