World

یمنی فورسز کی 1879 کارروائیاں، 950 حوثی ہلاک اور 380 گاڑیاں تباہ کرنے کا دعویٰ

یمنی فورسز کی 1879 کارروائیاں، 950 حوثی ہلاک اور 380 گاڑیاں تباہ کرنے کا دعویٰ
۷ گھنٹے پہلے

یمنی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن فجرِ یمن کے دوران حوثی ملیشیا کے خلاف مجموعی طور پر 1879 فوجی کارروائیاں کی گئیں، جن میں تقریباً 950 حوثی جنگجو ہلاک ہوئے، جبکہ 380 عسکری گاڑیاں اور دیگر جنگی سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔ 

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق یمنی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے بتایا کہ آپریشن کے دوران حوثی ملیشیا کے عسکری ٹھکانوں کو جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، راکٹ لانچرز اور سنائپر یونٹس کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔ 

فوجی ترجمان کے مطابق ابتدائی اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کارروائیوں میں حوثی ملیشیا کے تقریباً 950 ارکان مارے گئے، جبکہ 380 فوجی گاڑیاں، رسد کی فراہمی کے وسائل اور دیگر آلات تباہ ہونے یا استعمال کے قابل نہ رہنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ 

کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں حوثیوں کے متعدد فائرنگ کے ٹھکانے غیر فعال ہو گئے، جبکہ ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول اور رسد کے نظام میں بھی خلل پیدا ہوا۔ 

ترجمان نے کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا کی مضبوط دفاعی پوزیشنوں، قلعہ بندیوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، توپ خانے اور راکٹ لانچرز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

ان کے مطابق نگرانی اور خفیہ معلومات حاصل کرنے والے مراکز، کمک پہنچانے کے مقامات، اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر، عسکری گاڑیوں اور نقل و حمل و رسد کے مختلف ذرائع بھی کارروائیوں کی زد میں آئے۔ 

یمنی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ تعز میں کیے گئے فضائی حملوں کے دوران ان حوثی دستوں اور کمک کو نشانہ بنایا گیا جو مختلف محاذوں کی جانب روانہ کیے جا رہے تھے۔ 

ان کا دعویٰ تھا کہ فضائی کارروائیوں سے حوثی جنگجوؤں کے اجتماعات منتشر ہو گئے اور اپنے عسکری ٹھکانوں کو مدد پہنچانے اور فوجی دستوں کو دوبارہ منظم کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا۔ 

کرنل ماجد النزیلی نے مزید کہا کہ تمام فوجی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئیں۔ 

ان کے بقول حملوں کے دوران عسکری اہداف کی شناخت اور ان میں امتیاز، طاقت کے متناسب استعمال اور شہریوں سمیت شہری املاک کے تحفظ کے لیے ضروری احتیاطی اقدامات کا خیال رکھا گیا۔ 

یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ فوج کے انجینئرنگ یونٹس بحال کیے گئے علاقوں اور مقامات سے بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کی صفائی میں مصروف ہیں۔ 

ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد متعلقہ علاقوں کو فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں کی واپسی کے لیے محفوظ بنانا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں