آسٹریلیا کے 4 بولرز نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا منفرد ریکارڈ قائم کر دیا
آسٹریلیا کے 4 بولرز نے ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ایسا تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے جو اس کھیل کی 149 سالہ تاریخ میں اس سے پہلے کوئی بولنگ یونٹ حاصل نہیں کر سکا۔
پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور نیتھن لائن پر مشتمل آسٹریلوی بولنگ اٹیک نے جنوبی افریقا کے خلاف کنگزمیڈ میں پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران مشترکہ طور پر 600 وکٹوں کا سنگ میل عبور کیا۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان چاروں بولرز نے ایک ساتھ کھیلے گئے 38 ٹیسٹ میچز میں مجموعی طور پر 602 وکٹیں حاصل کی ہیں، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی بولنگ یونٹ کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔
آسٹریلوی بولرز کا یہ کارنامہ ایک ایسا ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے جسے مستقبل میں توڑنا انتہائی مشکل ہوگا، کیونکہ فہرست میں موجود دیگر بولنگ مجموعے اس تعداد سے کافی پیچھے ہیں۔
اس فہرست میں دوسرے نمبر پر انگلینڈ کے معین علی، جیمز اینڈرسن، اسٹورٹ براڈ اور بین اسٹوکس شامل ہیں، جنہوں نے مشترکہ طور پر تقریباً 430 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
تیسری پوزیشن جنوبی افریقا کے جیک کیلس، مکھایا این تینی، نکی بوئے اور شان پولاک کے نام ہے، جن کی مشترکہ وکٹوں کی تعداد 341 رہی۔
آسٹریلیا کے چاروں بولرز کی انفرادی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو پیٹ کمنز 158 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔
مچل اسٹارک نے 155 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جوش ہیزل ووڈ کے حصے میں 150 اور نیتھن لائن کے حصے میں 139 وکٹیں آئیں۔
ان چاروں کی مجموعی کارکردگی نے 602 وکٹوں کا تاریخی سنگ میل قائم کیا۔
آسٹریلوی بولنگ اٹیک کی اس کامیابی کی ایک اہم وجہ چاروں بولرز کے مختلف اور مؤثر بولنگ انداز ہیں۔
پیٹ کمنز اپنی تیز رفتاری سے بلے بازوں کو پریشان کرتے ہیں، جبکہ مچل اسٹارک بائیں ہاتھ سے سوئنگ بولنگ کے ذریعے حریفوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
جوش ہیزل ووڈ کی درست لائن و لینتھ بلے بازوں کو دباؤ میں رکھتی ہے، جبکہ نیتھن لائن کی سپن بولنگ آسٹریلوی بولنگ اٹیک کو مزید مؤثر بناتی ہے۔
بولنگ کے ان مختلف انداز کے امتزاج نے آسٹریلیا کے چاروں کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں منفرد مقام دلا دیا ہے۔