قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق
قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کر دی، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور نعرے بازی کے باوجود ایمرجنسی سے متعلق قراردادیں کثرت رائے سے منظور کر لیں۔
قومی اسمبلی میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان 4 گھنٹے سے زائد بحث ہوئی، جس کے بعد قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔
اس دوران اپوزیشن اراکین نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مخالفت کی اور ایوان میں نعرے بازی کی۔
قرارداد کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کر دی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قرارداد سینیٹ میں پیش کی، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
قرارداد پر ووٹنگ کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
دونوں ایوانوں میں قراردادوں کی منظوری سے قبل حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بحث میں حصہ لیا اور اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔
بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی کوشش کی جائے تاکہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔
ایمرجنسی کے نفاذ پر وفاقی حکومت کا مؤقف
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورتحال اور سرحد پار سے دراندازی کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشتگردی کے 2,911 واقعات ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد 3,787 رہی۔
وزیر قانون کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا طویل عرصے سے صوبے کے متعدد اضلاع میں دہشتگردی کی سنگین صورتحال پر تشویش ظاہر کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر کو یہ شکایت بھی تھی کہ صوبائی حکومت انسداد دہشتگردی کے اقدامات کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق گورنر نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو خطوط لکھ کر بھی صوبے کی صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔
وفاقی وزیر قانون نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے سنگین مسائل کے باوجود سیاسی سرگرمیوں اور دوسرے شہروں کے دوروں کو ترجیح دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو شہدا کے اہلخانہ سے ملاقات، زخمیوں کی عیادت، سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے مسلح افواج، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات کے ساتھ شہادتوں اور زخمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے وزیر قانون کی وضاحت
اسلام آباد پر چڑھائی اور دارالحکومت فتح کرنے سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام سمیت حکومتی نمائندوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور اپوزیشن کے وفد کے ساتھ بات چیت کی۔
وزیر قانون کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں 2 روز تک مذاکرات جاری رہے، جن میں مختلف مسودوں پر غور کیا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کے اقدامات پر بات چیت کے دوران اپوزیشن نے جیل میں قید اپنے رہنما سے ملاقات اور انہیں سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی قیدی کی رہائی یا مقدمے میں قانونی کارروائی متعلقہ عدالتی نظام کے تحت ہوتی ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 45 کے مطابق صدر مملکت کو سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
وزیر قانون نے ماضی کے سیاسی مذاکرات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ 2023 میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے پر اتفاق ہوا تھا۔
ان کے مطابق طے پایا تھا کہ بجٹ کی منظوری کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں اسمبلیاں تحلیل کی جائیں گی اور ستمبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں انتخابات کرائے جائیں گے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کا آئینی طریقہ کار
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ آئین میں موجود اختیارات اور متعلقہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کو منظوری کے لیے 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرنا ضروری ہے۔
اب قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قراردادیں کثرت رائے سے منظور کر لی ہیں۔