World

سعودی جنگی طیاروں کے حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے،اہم بین الاقوامی تقریبات منسوخ یا مؤخر

سعودی جنگی طیاروں کے حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے،اہم بین الاقوامی تقریبات منسوخ یا مؤخر
۱ دن پہلے

سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے ریاض اور الخرج کے لیے پہلے جاری کی گئی خطرے کی وارننگ واپس لے لی ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملوں کے دعوؤں اور جاری کشیدگی کے باعث اہم بین الاقوامی تقریبات اور فضائی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ 

سعودی محکمہ شہری دفاع نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ ریاض شہر میں خطرہ ٹل گیا ہے۔ الخرج گورنریٹ کے لیے بھی اسی نوعیت کا اعلان جاری کیا گیا۔ 

دوسری جانب یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے قائم سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ریاض کو نشانہ بنانے کے لیے داغا گیا حوثیوں کا ایک بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا۔ 

 

ریاض ایئرپورٹ اور سعودی جنگی طیارے پر حملے کے حوثی دعوے

 

یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیلسٹک میزائل کے ذریعے ایک مرتبہ پھر ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ 

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا۔ 

حوثیوں کا یہ بیان سعودی اتحاد کی جانب سے ایک میزائل فضا میں تباہ کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ 

جمعرات کی نصف شب کے بعد یحییٰ سریع نے ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں نے یمن کے صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں سعودی فضائیہ کے ایک ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ طیارے کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور امکان ہے کہ وہ گر کر تباہ ہو گیا ہو۔ 

یحییٰ سریع نے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ بھی دہرایا، جسے انہوں نے درست اور براہ راست حملہ قرار دیا۔ 

حوثی ترجمان کے مطابق گروپ نے رأس العارہ اور المضاربہ کے علاقوں میں سعودی افواج کے اجتماعات پر بھی 3 بیلسٹک میزائل داغے، جن کے نتیجے میں ان کے بقول جانی نقصان ہوا اور متعدد فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ 

دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر سعودی حملوں کی اطلاعات بھی دی ہیں۔ 

 

ریاض میں میزائل کے ملبے سے شہری زخمی، املاک کو نقصان



سعودی محکمہ شہری دفاع کے سرکاری ترجمان کے مطابق بدھ کو ریاض میں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیے گئے ایک بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک مقامی شہری زخمی ہو گیا۔ 

سعودی حکام نے بتایا کہ میزائل کو روکنے کی کارروائی کے دوران ایک مکان اور ایک گاڑی کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔ 

اس سے قبل سعودی حکام نے بتایا تھا کہ ریاض کے اوپر تباہ کیے گئے 2 میزائلوں کے ملبے سے 2 خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ زخمی ہوئے تھے، جبکہ دارالحکومت میں 15 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ 

 

حوثیوں اور یمنی حکومت کے فوجی کارروائیوں سے متعلق دعوے



حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے صنعا، تعز، لحج، مأرب، عمران اور جزیرہ میون میں 42 فضائی اور میزائل حملے کیے۔ 

گروپ کے مطابق ان حملوں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک سعودی عرب کی جانب سے مجموعی طور پر 2,323 حملے کیے جا چکے ہیں۔ 

حوثیوں نے خبردار کیا کہ جزیرہ میون پر فضائی اور میزائل حملے بحری جہاز رانی کے راستوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوگی۔ 

دوسری جانب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ آپریشن فجر یمن کے آغاز سے اب تک حوثیوں کے خلاف 2,309 کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ 

ترجمان کے مطابق تقریباً 1,250 حوثی جنگجوؤں کو میدان جنگ سے ہٹا دیا گیا، جبکہ 460 سے زائد فوجی گاڑیاں اور دیگر عسکری سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ 

 

سعودی آرامکو کی عمارت پر حملہ، نقصان کی متضاد اطلاعات



سعودی وزارت توانائی کے ایک عہدیدار کے مطابق مشرقی شہر ظہران میں سعودی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت پر حملے کے نتیجے میں محدود نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ منگل کے حملے میں آرامکو کے ہیڈکوارٹر کو نمایاں نقصان پہنچا اور آگ عمارت کی کئی منزلوں تک پھیل گئی۔ 

روئٹرز کے ذرائع کے مطابق کمپنی کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں، تاہم کچھ ملازمین گھروں سے کام کر رہے ہیں اور بعض ذمہ داریاں دنیا بھر میں آرامکو کے دیگر دفاتر کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی کمپنی کے ملازمین کے حوالے سے بتایا کہ ہیڈکوارٹر کے ایک ٹاور کو نقصان پہنچا، تاہم ادارہ نقصان کی نوعیت اور حجم کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ 

 

سعودی عرب میں اہم بین الاقوامی تقریبات منسوخ یا مؤخر



حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے بڑے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے مسلسل دعوؤں اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث کئی اہم بین الاقوامی تقریبات منسوخ، مؤخر یا آن لائن منتقل کی جا رہی ہیں۔ 

ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ہفتے تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

سعودی پرو لیگ میں الاہلی اور کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم النصر کے درمیان جمعرات کو ہونے والا میچ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ 

آئندہ ہفتے ہونے والا سکس کنگز ٹینس ٹورنامنٹ بھی دسمبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے، جس میں نوواک جوکووچ اور کارلوس الکاراز نے شرکت کرنا تھی۔ 

سعودی عرب کی سالانہ سرمایہ کاری کانفرنس، جسے صحرائی ڈیووس کہا جاتا ہے، تقریباً 2 ہفتے بعد ہائبرڈ انداز میں منعقد ہونے کی توقع ہے، جس میں کئی اہم شخصیات آن لائن شرکت کریں گی۔ 

اے ایف پی کے مطابق کانفرنس کے شرکا کی آمد کے لیے متبادل زمینی اور بحری راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ 

ورلڈ پیٹرولیم کانگریس بھی، جس کا اختتام جمعرات کو ہونا ہے، تیل کی صنعت کے کئی اعلیٰ رہنماؤں کی شرکت کے بغیر منعقد کی گئی۔ 

سعودی عرب میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار ہیں، جبکہ حوثی گروپ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دوبارہ بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں