ایم ڈی کیٹ امتحانات میں امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لینے کا اقدام غیر قانونی قرار
لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ایم ڈی کیٹ امتحانات کے بعد امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لینے کا اقدام غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعلقہ امتحانات کے سوالیہ پیپرز فوری طور پر ایپ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے امتحانات مکمل ہونے کے بعد امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لینے کے خلاف دائر طلبہ کی درخواستیں منظور کر لیں۔
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس احسن رضا کاظمی نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، یعنی پی ایم ڈی سی، کی انتظامیہ کو سوالیہ پرچے فوری طور پر ایپ پر جاری کرنے کی ہدایت کی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق امیدواروں کو امتحانی سوالیہ پرچے دینے کے بعد ان سے واپس لینے کا طریقہ کار قانونی طور پر درست نہیں ہے۔
ایم ڈی کیٹ کے امیدواروں ریحان شاہد اور انابیہ طاہر نے سوالیہ پرچے واپس لیے جانے کے خلاف عدالت میں درخواستیں دائر کی تھیں۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ملک ظہیر ارشد نے وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کا مؤقف پیش کیا۔
درخواست گزار طلبہ کے وکیل بیرسٹر عمران افراسیاب نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ امیدواروں کو اپنے امتحانی سوالیہ پرچے اپنے پاس رکھنے کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے امتحانات کے بعد سوالیہ پیپرز واپس لینے کا اقدام نہ صرف غیر آئینی اور غیر قانونی بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے۔
بیرسٹر عمران افراسیاب نے استدعا کی کہ امیدواروں سے واپس لیے گئے سوالیہ پرچے انہیں فراہم کیے جائیں۔
جسٹس احسن رضا کاظمی نے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ پی ایم ڈی سی امیدواروں کو سوالیہ پرچے فراہم کرنے کے بعد انہیں واپس نہیں لے سکتی۔
عدالت نے پی ایم ڈی سی انتظامیہ کو حکم دیا کہ سوالیہ پرچے فوری طور پر ایپ پر اپ لوڈ کیے جائیں۔
جج نے ہدایت کی کہ عدالتی فیصلے پر اسی روز عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے طلبہ کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ایم ڈی کیٹ کے سوالیہ پرچے واپس لینے کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔