World

پاک امریکا جنگ ہوبھارت کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے، بی جے پی رکنِ اسمبلی کے بیان پر ہنگامہ

پاک امریکا جنگ ہوبھارت کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے، بی جے پی رکنِ اسمبلی کے بیان پر ہنگامہ
۱ دن پہلے

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے راجستھان میں صدر اور راجیہ سبھا کے رکن مدن راٹھور کے ایک مبینہ بیان پر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکا اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو بھارت کو امریکا کے بجائے پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے۔ اس بیان پر کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کی، جبکہ مدن راٹھور نے بعد میں وضاحت دی کہ ان کی بات جنگ نہیں بلکہ کرکٹ میچ کے حوالے سے تھی۔ 

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مدن راٹھور نے ایک تقریب کے دوران مبینہ طور پر کہا کہ اگر کبھی امریکا اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو بھارت کو پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ پاکستان اس کا پڑوسی ملک ہے۔ 

بتایا گیا ہے کہ انہوں نے یہ بات پڑوسی ممالک کے باہمی تعلقات، جغرافیائی قربت اور علاقائی سیاست کے تناظر میں کی تھی۔ 

تاہم اس بیان کے سامنے آنے کے بعد بھارتی سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی اور اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی رہنما کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ 

کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مدن راٹھور کے مبینہ بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر تنقید کی۔ 

اپوزیشن رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ اس نوعیت کے بیان سے بھارت کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق مؤقف متاثر ہو سکتا ہے۔ 

بعض مخالف سیاسی رہنماؤں نے اس بیان کو غداری کے مترادف بھی قرار دیا، تاہم یہ ان کا سیاسی الزام ہے، کوئی ثابت شدہ قانونی نتیجہ نہیں۔ 

اپوزیشن نے اس تنازع پر بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ردعمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ پارٹی قیادت اس معاملے پر خاموش کیوں ہے۔ 

سیاسی تنقید کے بعد مدن راٹھور نے اگلے ہی روز اپنے بیان کی وضاحت پیش کی۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی گفتگو کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور اس کا اصل مطلب تبدیل کر دیا گیا۔ 

بی جے پی رہنما کے مطابق وہ پاکستان اور امریکا کے درمیان کسی فوجی جنگ یا سیاسی تصادم کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کا حوالہ کرکٹ میچ سے متعلق تھا۔ 

مدن راٹھور نے مؤقف اختیار کیا کہ جب 2 ممالک کی ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتی ہیں تو پڑوسی ملک ہونے کے باعث لوگوں کی ترجیحات اور جذبات مختلف ہو سکتے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیان کو اصل سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا گیا، جس سے ایک غلط تاثر پیدا ہوا۔ 

دوسری جانب کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مدن راٹھور کی وضاحت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ 

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر اور راجیہ سبھا کے رکن جیسے اہم عہدوں پر فائز شخص کو عوامی بیانات دیتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ 

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل بیان کے بعد اسے کرکٹ میچ سے جوڑ کر وضاحت دینا قابلِ قبول نہیں۔ 

مدن راٹھور کے مبینہ بیان، اس پر سامنے آنے والے سیاسی ردعمل اور بعد میں دی گئی وضاحت کے بعد یہ معاملہ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں