مبینہ بلیک مارکیٹنگ ،ایل پی جی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں، اربوں کی لوٹ مار جاری ہے، عرفان کھوکھر
ملک بھر میں مبینہ بلیک مارکیٹنگ کے باعث ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی میں ایل پی جی 600 روپے جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں 650 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، حالانکہ اوگرا نے اکتوبر 2026 کے لیے سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کی تھی۔
کراچی میں دو روز کے دوران ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 150 روپے اضافے کی اطلاع سامنے آئی ہے اور قیمت 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل شہر میں ایل پی جی کی قیمت 550 روپے فی کلو بتائی گئی تھی۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے ملک بھر میں بڑھتی قیمتوں اور مبینہ بلیک مارکیٹنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں ایل پی جی 650 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں قیمت تقریباً 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
بالائی، سرد اور پہاڑی علاقوں میں بھی ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں، جہاں گیس کی قلت اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کو قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں شامل کیا جا رہا ہے۔
اوگرا نے اکتوبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کی تھی، تاہم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ صارفین کو مقررہ نرخ پر گیس دستیاب نہیں ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق مختلف علاقوں میں شہری 500 سے 650 روپے فی کلو تک ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، جو سرکاری قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔
عرفان کھوکھر نے الزام عائد کیا کہ اوگرا کے مقررہ نرخوں کے برخلاف من مانی قیمتیں وصول کرکے صارفین سے اربوں روپے کی غیر قانونی لوٹ مار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے اوگرا اور متعلقہ اداروں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مبینہ بلیک مارکیٹنگ اور زائد قیمتوں کی وصولی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔
عرفان کھوکھر کے مطابق ایل پی جی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث بالخصوص کم آمدنی والے شہری شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔