گجرات: سعودی عرب سے خفیہ طور پر پاکستان آ کر چھوٹے بھائی کو قتل کرنے والا بڑا بھائی گرفتار
گجرات میں 24 سالہ نوجوان محمد سفیان کے قتل کا ملزم اس کا اپنا بڑا بھائی محمد بلال نکلا، جو پولیس کے مطابق سعودی عرب سے خفیہ طور پر پاکستان آیا، چھوٹے بھائی کو ملاقات کے بہانے بلایا، مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد واردات کو ڈکیتی کا رنگ دیا اور اگلے روز بھائی کے جنازے میں شریک ہوکر بے خبری ظاہر کرتا رہا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات فیصل شہزاد کے مطابق 17 اکتوبر کو گاؤں روپیری کے رہائشی محمد سفیان کو سعودی عرب میں مقیم اپنے بڑے بھائی محمد بلال کی واٹس ایپ کال موصول ہوئی۔ بلال نے سفیان کو گجرات شہر آنے کا کہا اور بتایا کہ اس کے لیے ایک سرپرائز ہے اور اسے کسی خاص شخص سے ملوانا ہے۔
محمد سفیان دوپہر تقریباً ایک بج کر 35 منٹ پر موٹرسائیکل پر گھر سے روانہ ہوا۔ گجرات شہر پہنچنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ ملاقات کے لیے بلانے والا شخص اس کا اپنا بھائی بلال ہے، جس کی پاکستان واپسی سے خاندان لاعلم تھا۔
دونوں بھائیوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا، کچھ وقت گفتگو میں گزارا اور شام کو ایک ہی موٹرسائیکل پر گھر واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔
ڈی پی او فیصل شہزاد کے مطابق دریکڑی روڈ پر ایک ویران مقام پر پہنچ کر بلال نے مبینہ طور پر رفع حاجت کا بہانہ بنایا اور سفیان سے موٹرسائیکل روکنے کو کہا۔
پولیس کا الزام ہے کہ موٹرسائیکل رکتے ہی بلال نے چھری سے اپنے چھوٹے بھائی کی گردن پر وار کرکے اسے قتل کردیا اور لاش سڑک کنارے پھینک دی۔
پولیس کے مطابق ملزم واردات کو ڈکیتی ظاہر کرنے کے لیے مقتول کا موبائل فون اور موٹرسائیکل بھی ساتھ لے گیا۔ بعد میں موٹرسائیکل کوٹلہ میں پنجاب موٹرز کے باہر کھڑی کرکے لاہور فرار ہوگیا۔
تھانہ دولت نگر میں درج ایف آئی آر کے مطابق سفیان کے والد خالد محمود اپنے بیٹے کے شام تک واپس نہ آنے پر پریشان ہوگئے اور دوستوں کے ہمراہ اس کی تلاش کے لیے نکلے۔
خالد محمود کے مطابق رات تقریباً 8 بج کر 45 منٹ پر دریکڑی روڈ پر زیر تعمیر موٹروے پل کے قریب انہیں سڑک کنارے ایک شخص پڑا ہوا دکھائی دیا۔ موٹرسائیکل کی روشنی میں قریب جاکر دیکھا تو وہ ان کا بیٹا سفیان تھا، جس کا گلا کٹا ہوا تھا اور وہ خون میں لت پت پڑا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق موقع پر مقتول کا موبائل فون اور موٹرسائیکل موجود نہیں تھے۔ والد نے نامعلوم افراد کے خلاف قتل اور ڈکیتی کا مقدمہ درج کرایا۔
پولیس کے مطابق اہل خانہ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ بلال سعودی عرب سے پاکستان واپس آچکا ہے۔ جب خاندان نے اسے سفیان کے قتل کی اطلاع دی تو اس نے مبینہ طور پر واقعے سے لاعلم ہونے کا تاثر دیا۔
ڈی پی او فیصل شہزاد کا کہنا ہے کہ بلال نے خاندان سے کہا کہ سعودی عرب سے اس کی واپسی تک بھائی کی تدفین نہ کی جائے، حالانکہ پولیس کے مطابق وہ پہلے ہی پاکستان میں موجود تھا۔
ملزم نے مبینہ طور پر جنازے کا وقت بھی تاخیر سے رکھوایا اور 18 اکتوبر کی صبح گاؤں پہنچ کر ظاہر کیا کہ وہ بھائی کے قتل کی خبر سن کر ہنگامی طور پر سعودی عرب سے واپس آیا ہے۔
محمد سفیان کے والد خالد محمود نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بلال تدفین کے انتظامات میں پیش پیش رہا، رشتہ داروں سے گلے مل کر روتا رہا اور کہتا تھا کہ معلوم نہیں کن ظالموں نے اس کے بھائی کو قتل کیا ہے، وہ اپنے بھائی کے خون کا بدلہ لے کر رہے گا۔
تاہم پولیس نے سی سی ٹی وی اور سیف سٹی کیمروں کی ریکارڈنگ کی مدد سے واقعے کی تحقیقات شروع کیں تو اہم شواہد سامنے آئے۔
کیس کے تفتیشی افسر اور تھانہ دولت نگر کے ایس ایچ او احسان لطیف کے مطابق پولیس نے سفیان کے گھر سے نکلنے کے بعد اس کے راستے میں موجود سڑکوں، فیکٹریوں اور رہائشی عمارتوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی۔
ایک سیف سٹی کیمرے کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوا کہ سفیان دوپہر 3 بج کر 42 منٹ پر گجرات شہر میں میجر عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے سامنے پہنچا اور تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ تک کسی شخص کا انتظار کرتا رہا۔
شام 5 بج کر 27 منٹ پر ایک شخص وہاں پہنچا جس سے سفیان نے گرمجوشی سے ملاقات کی۔ کچھ دیر گفتگو کے بعد دونوں قریبی ریستوران میں کھانا کھانے چلے گئے۔
پولیس کے مطابق فوٹیج میں نظر آنے والے شخص کی شناخت محمد بلال کے طور پر ہوئی، جس نے جنازے کے موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ وہ بھائی کے قتل کے بعد سعودی عرب سے واپس آیا ہے۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ بلال قتل سے پہلے ہی پاکستان پہنچ چکا تھا اور وقوعے کے روز اپنے بھائی سے ملاقات بھی کرچکا تھا۔
ایک دوسری سی سی ٹی وی ریکارڈنگ میں دونوں بھائی ریستوران سے نکل کر موٹرسائیکل پر روانہ ہوتے دکھائی دیے۔ موٹرسائیکل سفیان چلا رہا تھا جبکہ بلال پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔
ایس ایچ او احسان لطیف کے مطابق دریکڑی کے ویران علاقے میں دونوں تقریباً آدھے گھنٹے تک کیمروں کی نظروں سے اوجھل رہے، لیکن بعد کی فوٹیج میں بلال اکیلا موٹرسائیکل چلاتے ہوئے گجرات شہر کی طرف واپس جاتا دکھائی دیا۔
پولیس نے مقتول کی لاش کے نیچے دبی ہوئی چھری بھی قبضے میں لی۔ پولیس کے دعوے کے مطابق اس پر بلال کے فنگر پرنٹس پائے گئے، جن کی تصدیق کے لیے چھری پنجاب فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوا دی گئی۔
قتل کی ممکنہ وجہ کے حوالے سے والد خالد محمود نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کے درمیان وراثتی جائیداد کی تقسیم کا تنازع تھا، تاہم ان کے خیال میں یہ معاملہ پہلے ہی حل ہوچکا تھا۔
خالد محمود کے مطابق ان کے چار بیٹے تھے، جن میں سے ایک پہلے انتقال کرچکا تھا، دوسرا یورپ میں مقیم ہے، بلال تقریباً ڈیڑھ سال سے سعودی عرب میں ٹرالر چلاتا تھا جبکہ سفیان دو سال ملائیشیا میں رہنے کے بعد پاکستان واپس آچکا تھا اور یورپ جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
والد نے بتایا کہ چار مرلے کے آبائی مکان کی تقسیم کے معاملے پر انہوں نے بلال کو گاؤں سے باہر 18 مرلے زرعی زمین دی تھی اور کہا تھا کہ اب مکان میں اس کا حصہ نہیں ہوگا۔
خالد محمود کا دعویٰ ہے کہ بلال سمجھتا تھا کہ چھوٹا بھائی سفیان اس کے وراثتی حق میں رکاوٹ ہے اور جائیداد کی تقسیم میں اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، حالانکہ تقسیم کا فیصلہ والد نے خود کیا تھا۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دوران تفتیش ملزم بلال نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسے جائیداد سے بے دخل کرکے ناانصافی کی گئی۔
والد کے مطابق جب دو روز بعد پولیس بلال کو تفتیش کے لیے تھانے لے گئی تو خاندان نے سمجھا کہ اس کا صرف بیان ریکارڈ کیا جائے گا، لیکن چند گھنٹے بعد جب انہیں تھانے بلایا گیا تو انہوں نے بلال کو ہتھکڑیوں میں دیکھا۔
ملزم محمد بلال کو بدھ کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے مقتول کے موبائل فون، موٹرسائیکل اور دیگر شواہد سے متعلق مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔ عدالت نے ملزم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
خالد محمود نے واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے نے ان کی دنیا اجاڑ دی ہے، کیونکہ ان کا ایک بیٹا قتل ہوگیا اور دوسرا اسی قتل کے الزام میں گرفتار ہوکر جیل جانے کی صورتحال سے دوچار ہے۔