Business

اوگرا، وزارتِ پیٹرولیم اور حکومت نے ایل پی جی مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے

اوگرا، وزارتِ پیٹرولیم اور حکومت نے ایل پی جی مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے
۱ منٹ پہلے

اوگرا کی جانب سے ایل پی جی مافیا کے خلاف کارروائی شروع نہ کرنے کے باعث عوام دنیا کی مہنگی ترین ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، کیونکہ اوگرا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کارروائی کی گئی تو بحران مزید سنگین صورتحال اختیار کر جائے گا اور قیمت 700 روپے سے بھی تجاوز کر جائے گی۔

 

 دوسری جانب اوگرا، وزارتِ پیٹرولیم اور حکومت نے ایل پی جی مافیا کے سامنے فی الحال ہتھیار ڈال دیے ہیں اور عوام کو اس مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جس کے باعث ایل پی جی مافیا اور ذخیرہ اندوز اس وقت اربوں روپے کی لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

 نجی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اوگرا نے ایل پی جی کمپنیوں اور زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی فی الحال مؤخر کر دی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں ہڑتال اور پلانٹس کی بندش سے گیس کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اور ایل پی جی کی قیمت 700 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سے چھ روز سے ایل پی جی فروخت کرنے والے مبینہ طور پر من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں، تاہم اوگرا، وزارتِ پیٹرولیم اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔

 

اوگرا کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نجی ٹی وی کو بتایا کہ گزشتہ تین سے چار روز کے دوران اس صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں مختلف اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

 

اجلاسوں میں بتایا گیا کہ تفتان بارڈر کی بندش کے باعث ایل پی جی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔اہلکار کے مطابق پاکستان کی مجموعی ایل پی جی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد درآمدات کے ذریعے پورا ہوتا ہے، جبکہ 30 فیصد گیس مقامی سطح پر پیدا کی جاتی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اگر موجودہ صورتحال میں ایل پی جی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو خدشہ ہے کہ کمپنیاں ہڑتال کرکے اپنے پلانٹس بند کر دیں گی، جبکہ ایل پی جی دکاندار بھی ہڑتال میں شامل ہو سکتے ہیں۔

 

اعلیٰ افسر کے مطابق اسی خدشے کے باعث مہنگی ایل پی جی فروخت کرنے والوں کے خلاف تیار کی گئی کارروائی شروع نہیں کی گئی۔

 

انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور فی الحال کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، حالانکہ کارروائی کے لیے فہرستیں بھی تیار کر لی گئی تھیں۔

 

مجوزہ منصوبے کے تحت اوگرا نے ایل پی جی کمپنیوں کے پلانٹس پر کارروائی کرنا تھی، جبکہ صوبائی حکومتوں کی ضلعی انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر ایل پی جی ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف اقدامات کی ذمہ داری دی جانی تھی۔

 

تاہم حکام کے مطابق ممکنہ ہڑتال کے باعث توانائی کی فراہمی مزید متاثر ہونے کے خدشے پر کارروائی روک دی گئی، کیونکہ ملک کو پہلے ہی توانائی کی قلت کا سامنا ہے۔

 

رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کارروائی نہ ہونے کے باعث ایل پی جی کی مبینہ بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی جاری ہے، جس سے صارفین سے اربوں روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔

 

دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا کنٹرول سنبھالے، بصورتِ دیگر حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

 

اس معاملے پر رابطہ کرنے پر اوگرا کے ترجمان نے بتایا کہ مسئلے کے حل کے لیے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتان بارڈر کی بندش سے کچھ مشکلات پیدا ہوئی ہیں، تاہم توقع ہے کہ جلد صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں