مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے امریکی و اسرائیلی حملوں کا منصوبہ، امریکی اخبار
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کا منصوبہ تیار کرلیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کی افواج نے ممکنہ کارروائیوں کے لیے جنگی مشقیں بھی تیز کردی ہیں۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کو ایک بار پھر فوجی کارروائی کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق ممکنہ حملوں کے اہداف میں ایران کی توانائی کی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائلوں کے ذخائر اور ڈرونز کے ذخیرے شامل ہیں۔
امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ مختصر لیکن شدید فوجی کارروائی ایران کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس نوعیت کی فوجی کارروائی کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں تہران سفارتی مذاکرات میں رعایتیں دینے پر مجبور ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے رواں ہفتے اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایران پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے جنگی طیارے عراق کی فضائی حدود میں ممکنہ حملوں کی مشقیں بھی کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں سے متعلق یہ تفصیلات امریکی اخبار نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کی ہیں، تاہم فراہم کردہ خبر میں حملوں کے حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔