ایل پی جی 50 روپے سستی ہونے کا امکان، خیبرپختونخوا میں بحران شدید
پاکستان میں ایل پی جی کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان شہریوں کے لیے اچھی خبر ہے کہ آئندہ ایک سے دو روز میں فی کلو قیمت میں 50 روپے تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تقریباً 900 ایرانی ایل پی جی باؤزرز کو پاکستان آنے کی اجازت ملنے سے گیس کی سپلائی بہتر ہونے کی توقع ہے،
دوسری جانب پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں ایل پی جی کا بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے، جہاں گیس سلنڈر کی قیمت 10 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی، جبکہ پشاور میں ایل پی جی 600 اور شمالی علاقوں میں 750 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
کراچی میں ایف پی سی سی آئی کی ایل پی جی سٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینئر علی حیدر نے بتایا کہ 16 اکتوبر تک لوڈ کیے گئے ایرانی ایل پی جی باؤزرز کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ان کے مطابق تقریباً 900 باؤزرز کی آمد سے ملک میں ایل پی جی کی فراہمی بہتر ہوگی اور قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔
علی حیدر نے کہا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ ایک سے دو روز میں فی کلو قیمت 50 روپے تک کم ہوسکتی ہے۔
انہوں نے اوگرا کے موجودہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کے نرخ ماہانہ کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر مقرر کیے جائیں۔
علی حیدر کے مطابق اکتوبر کے دوران پاکستان نے ایل پی جی کے پانچ جہاز درآمد کیے، جن کے ذریعے مجموعی طور پر 22 ہزار ٹن گیس ملک میں لائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایل پی جی کی مجموعی یومیہ طلب 12 سے 13 ہزار ٹن ہے، جبکہ صرف کراچی میں روزانہ 4 سے 5 ہزار ٹن ایل پی جی استعمال ہوتی ہے۔
ان کے مطابق کراچی میں ایل پی جی کی مجموعی کھپت کا 40 فیصد کمرشل شعبے اور 30 فیصد صنعتی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔
دوسری جانب پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی قلت اور بڑھتی قیمتوں نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
گیس کی مناسب فراہمی نہ ہونے کے باعث پشاور میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں ایل پی جی 750 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث گیس سلنڈر کی قیمت بھی 10 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے، جس سے گھریلو اور کاروباری صارفین شدید متاثر ہورہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد پاکستان کو ایل پی جی کی فراہمی میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ تیز ہوگیا۔
اوگرا نے رواں ماہ اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کی ہے، تاہم مارکیٹ میں گیس 550 سے 600 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔
سرکاری اور مارکیٹ نرخوں میں بڑے فرق کے باوجود متعلقہ ادارے قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔
ایل پی جی بحران کے ساتھ متبادل ایندھن لکڑی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لکڑی کی فی من قیمت 200 سے 300 روپے بڑھ گئی ہے۔ پہلے 1400 سے 1600 روپے فی من فروخت ہونے والی لکڑی اب 1600 سے 1800 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے۔
ایرانی ایل پی جی باؤزرز کی متوقع آمد سے سپلائی بہتر ہونے اور قیمتوں میں کمی کی امید ظاہر کی جارہی ہے، تاہم خیبرپختونخوا میں شہری بدستور گیس کی قلت اور بلند قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔