Business

پاکستانی کمپنیوں کی عالمی بحران میں اربوں روپے کی کمائی، ایک ہزار فیصد سے بھی زیادہ منافع

پاکستانی کمپنیوں کی عالمی بحران میں اربوں روپے کی کمائی، ایک ہزار فیصد سے بھی زیادہ منافع
۱ منٹ پہلے

پاکستانی عوام مہنگے پیٹرول اور ڈیزل کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں، لیکن اسی دوران پاکستان کی بڑی آئل ریفائنریز، تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے وابستہ کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 

 بعض آئل ریفائنریز نے جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار فیصد سے بھی زیادہ منافع کمایا۔ 

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی بڑھی، جس کے نتیجے میں خام تیل، پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 

دنیا بھر میں توانائی کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے اس اہم بحری گزرگاہ میں کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ 

جنگ سے پہلے پاکستان میں پیٹرول تقریباً 276 روپے اور ڈیزل 287 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا، تاہم بعد میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا اور بعض مواقع پر یہ 400 روپے فی لیٹر تک بھی پہنچ گئیں۔ 

غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر شروع کیا، جبکہ مہنگے ایندھن کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوئے۔ 

پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق فروری میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد تھی، جو بعد میں بڑھ کر تقریباً 11 فیصد تک پہنچ گئی۔ 

تاہم اسی عرصے میں پاکستان کی بڑی آئل ریفائنریز اور توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے مالی نتائج میں نمایاں بہتری سامنے آئی۔ 

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں درج چار آئل ریفائنریز میں سے تین نے اپنے تازہ سہ ماہی نتائج جاری کیے، جن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں غیر معمولی منافع ریکارڈ کیا گیا۔ 

اٹک ریفائنری نے گزشتہ سال جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں ایک ارب 45 کروڑ روپے خالص منافع کمایا تھا، جو رواں سال اسی عرصے میں بڑھ کر 18 ارب 65 کروڑ روپے ہوگیا۔ اس طرح کمپنی کے منافع میں تقریباً 1184 فیصد اضافہ ہوا۔ 

نیشنل ریفائنری کا خالص منافع گزشتہ سال ایک ارب 3 کروڑ روپے تھا، جو رواں سال اسی سہ ماہی میں بڑھ کر 11 ارب 57 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، یعنی تقریباً 1029 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 

پاکستان ریفائنری لمیٹڈ نے گزشتہ سال جولائی سے ستمبر کے دوران ایک ارب 2 کروڑ روپے خالص منافع کمایا تھا، جبکہ رواں سال یہ منافع 13 ارب 97 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اس طرح کمپنی کے منافع میں تقریباً 1274 فیصد اضافہ ہوا۔ 

صرف ریفائنریز ہی نہیں بلکہ تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار سے منسلک کمپنیوں کے مالی نتائج بھی بہتر رہے۔ 

پاکستان آئل فیلڈز کا خالص منافع گزشتہ سال کی متعلقہ سہ ماہی میں 5 ارب 43 کروڑ روپے تھا، جو رواں سال بڑھ کر 8 ارب 19 کروڑ روپے ہوگیا۔ یہ تقریباً 51 فیصد اضافہ ہے۔ 

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی اس عرصے میں بہتر منافع رپورٹ کیا۔ 

اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ کا خالص منافع گزشتہ سال 3 ارب 81 کروڑ روپے تھا، جو رواں سال جولائی سے ستمبر کے دوران بڑھ کر 6 ارب 64 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، یعنی تقریباً 74 فیصد اضافہ ہوا۔ 

یہ اعداد و شمار ایک نمایاں تضاد ظاہر کرتے ہیں کہ ایک طرف عام صارفین بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں اور مہنگائی کا سامنا کرتے رہے، جبکہ دوسری جانب توانائی کے شعبے کی متعدد کمپنیوں کے منافع میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 

ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی منافع کی تین بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ 

پہلی وجہ یہ تھی کہ جنگ اور عالمی رسد میں رکاوٹوں کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھیں، جس سے آئل ریفائنریز کے منافع کے مارجن بہتر ہوگئے۔ 

دوسری وجہ انوینٹری گین تھی، یعنی کمپنیوں کے پاس پہلے سے موجود نسبتاً کم قیمت پر خریدے گئے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی قدر میں اضافہ ہوا اور انہیں فروخت کرنے پر اضافی منافع حاصل ہوا۔ 

تیسری وجہ یہ تھی کہ عالمی سطح پر خام تیل کے مقابلے میں تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات، خصوصاً ڈیزل، کی فراہمی زیادہ متاثر ہوئی، جس سے ڈیزل کی قیمتوں اور ریفائنری مارجن میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ 

تیل اور گیس کی صنعت سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہنے والے ماہرین کے مطابق ریفائنریز کے منافع میں اضافے کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ ریفائنریز کی آمدن کا اہم پیمانہ خام تیل کی قیمت اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات یعنی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان فرق ہوتا ہے، جسے گراس ریفائنری مارجن یا کریک سپریڈ کہا جاتا ہے۔ 

جنگ سے پہلے پیٹرول کا کریک سپریڈ تقریباً 12 ڈالر فی بیرل تھا، جو بڑھ کر 26 سے 27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ 

اسی طرح ڈیزل کا کریک سپریڈ پہلے 12 سے 15 ڈالر فی بیرل تھا، جو بڑھ کر تقریباً 50 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پاکستانی ریفائنریز کا اوسط گراس ریفائنری مارجن تقریباً 5 سے 6 ڈالر فی بیرل ہوا کرتا تھا۔ 

ماہرین کے مطابق اگرچہ عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے سے ریفائنریز کی درآمدی لاگت بھی بڑھی، تاہم تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس سے زیادہ اضافے کے باعث ان کے منافع میں نمایاں بہتری آئی۔ 

انہوں نے کہا کہ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے بھی صورتحال کو متاثر کیا۔ پاکستان میں استعمال ہونے والے ڈیزل کا ایک حصہ مشرق وسطیٰ سے درآمد ہوتا تھا، لیکن خطے کی بعض ریفائنریز میں پیداوار کم ہونے اور کویت سے سپلائی متاثر ہونے کے باعث مارکیٹ میں دباؤ بڑھا۔ 

ان کے مطابق باب المندب اور دیگر اہم بحری راستوں پر سیکیورٹی خدشات نے بھی تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر اثر ڈالا۔ 

بروکریج فرم ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے توانائی اور بینکاری شعبے کے تجزیہ کاروں نے بتایا کہ جب عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خام تیل سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہیں تو ریفائنریوں کے مارجن بہتر ہوتے ہیں اور ان کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

ان کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی اس صورتحال سے فائدہ ہوا، جس کی ایک بڑی وجہ انوینٹری گین تھی۔ 

انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں ریگولیٹری تقاضوں کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ایندھن کا ایک مخصوص ذخیرہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ 

ایسی کمپنیاں جنہوں نے پہلے نسبتاً کم قیمت پر پیٹرولیم مصنوعات خرید کر ذخیرہ کی تھیں، بعد میں قیمتوں میں اضافے کے باعث ان مصنوعات کی فروخت سے اضافی منافع کمانے میں کامیاب رہیں۔ 

ستمبر کے اختتام پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نسبتاً بلند تھیں، جس سے کمپنیوں کے مارجن اور منافع پر مثبت اثر پڑا۔ 

ان کے مطابق خام تیل کی عالمی فراہمی سے متعلق خدشات اور قلت کے باعث درآمدی اور ترسیلی اخراجات میں بھی اضافہ ہوا، جنہیں لینڈڈ کاسٹ اور فریٹ کاسٹ کہا جاتا ہے۔ 

تاہم خام تیل کی خریداری پر اضافی اخراجات کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زیادہ اضافے نے کمپنیوں کے مجموعی منافع کو بہتر بنایا۔ 

اس غیر معمولی منافع کی وجہ صرف قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ عالمی سپلائی کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں بھی تھیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل کے مقابلے میں ریفائننگ کی صلاحیت اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی زیادہ متاثر ہوئی۔ 

چونکہ دنیا کے کئی ممالک ڈیزل اور دیگر تیار شدہ ایندھن کے لیے خلیجی ریفائنریز پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے سپلائی میں رکاوٹوں کے بعد ڈیزل کی قیمتیں خام تیل سے زیادہ تیزی سے بڑھیں۔ 

پاکستانی ریفائنریز کو اس صورتحال سے فائدہ پہنچا کیونکہ وہ خام تیل درآمد کرکے مقامی سطح پر اسے ریفائن کررہی تھیں، جبکہ تیار شدہ مصنوعات کی عالمی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی تھیں۔ 

انہوں نے کہا کہ آئل ریفائنریز کے مارجن صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں بڑھے ہیں۔ 

اس صورتحال کی ایک مثال امریکی توانائی کمپنی ولیرو انرجی کے مالی نتائج ہیں۔ 

کمپنی نے 22 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ اس کا سہ ماہی خالص منافع ایک ارب 10 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 6 ارب 80 کروڑ ڈالر ہوگیا۔ 

اسی طرح کمپنی کے ریفائننگ شعبے کا آپریٹنگ منافع ایک ارب 60 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جو تقریباً 450 فیصد اضافہ ہے۔ 

اس سوال پر کہ کیا حکومت آئل ریفائنریز کے غیر معمولی منافع اور مارجن کو محدود کرسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس مختلف پالیسی اختیارات موجود ہیں۔ 

ان کے مطابق حکومت قیمتوں یا مارجن کی بالائی حد مقرر کرسکتی ہے، ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرسکتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کو صارفین کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان اس نوعیت کے اقدامات پہلے بھی کرچکی ہے۔ 

توانائی اور مالیاتی شعبے سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے میٹس گلوبل نے اگست میں رپورٹ کیا تھا کہ حکومت نے ڈیزل کے کریک سپریڈ یا ریفائنری مارجن پر بالائی حد مقرر کی تاکہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے ریفائنری مارجن کا مکمل بوجھ پاکستانی صارفین پر منتقل نہ ہو۔ 

ابتدائی طور پر ڈیزل کے کریک سپریڈ کی حد 41.89 ڈالر فی بیرل مقرر کی گئی تھی، تاہم حالیہ پاکستانی میڈیا اور بروکریج رپورٹس کے مطابق اسے مزید کم کرکے 38 ڈالر فی بیرل کردیا گیا ہے۔ 

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے 20 اکتوبر کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ کریک سپریڈ پر عائد حد کی وجہ سے آئل ریفائنریز کے منافع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی میں صنعت کے مجموعی مارجن کم ہونے کا امکان ہے۔ 

یوں عالمی توانائی بحران نے جہاں پاکستانی صارفین کے لیے پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کیا، وہیں ریفائننگ مارجن اور ذخائر کی قدر میں اضافے کے باعث توانائی کے شعبے کی متعدد کمپنیوں کے منافع میں غیر معمولی اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔اس کا نگریزی ترجمہ کر دیں

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں