سعودی عرب:حوثیوں کا ڈرون مار گرایا گیا،ریاض،نجران اور وادی الدواسر میں ہنگامی حفاظتی انتباہ
سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتہ 24 اکتوبر کو سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کردیا گیا۔ دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس اتھارٹی نے ریاض، نجران اور وادی الدواسر میں شہریوں کے لیے ہنگامی حفاظتی انتباہ جاری کیا، تاہم چند منٹ بعد خطرہ ٹل جانے کا اعلان کردیا گیا۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو کامیابی سے روک کر تباہ کیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ماہ سعودی عرب میں متعدد حملے رپورٹ ہوئے ہیں جن کا الزام ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں پر عائد کیا گیا ہے۔
ان واقعات میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے، جسے حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب میں پیش آنے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
تاہم حوثی جنگجو سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی بارہا تردید کرچکے ہیں۔
واضح رہے کہ حوثی گروپ 2014 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ اس حکومت کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
تقریباً چار سال تک جاری رہنے والی نازک جنگ بندی کے بعد رواں سال جولائی میں یمن میں لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی تھی۔
یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد سامنے آئی، جس کے نتیجے میں پورا خطہ ایک وسیع بحران کی لپیٹ میں آگیا۔
یمن میں طویل عرصے سے جاری جنگ کے دوران لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے یمن کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی سول ڈیفنس اتھارٹی نے ہفتہ 24 اکتوبر کی صبح دارالحکومت ریاض سمیت نجران اور وادی الدواسر کے علاقوں میں شہریوں کے لیے حفاظتی انتباہ جاری کیے۔
اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغامات میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے، کھڑکیوں اور کھلی جگہوں سے دور رہنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔
تاہم چند منٹ بعد سول ڈیفنس اتھارٹی نے الگ الگ اعلانات میں بتایا کہ ان علاقوں میں خطرہ ٹل گیا ہے۔
سعودی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ خطرے کی نوعیت کیا تھی اور ریاض، نجران اور وادی الدواسر میں ہنگامی انتباہ کس وجہ سے جاری کیا گیا تھا۔
فراہم کردہ اطلاعات میں یہ بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ ان حفاظتی انتباہات کا مشرقی علاقے میں تباہ کیے جانے والے ڈرون سے براہ راست کوئی تعلق تھا۔