اردن: چرچ میں مسلح افراد کی فائرنگ، 7 افراد ہلاک، 34 زخمی
اردن کے جنوبی صوبے کرک کے گاؤں حمود میں چرچ کے اندر آخری رسومات کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے 7 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے، جبکہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے حملے کا سخت ترین جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ پاکستان نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اردن کی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق مسلح حملہ آور ایک گاڑی میں چرچ پہنچے اور آخری رسومات میں شریک افراد پر فائرنگ شروع کردی۔
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ دو حملہ آوروں نے رائفل اور پستول سے تقریباً پانچ منٹ تک فائرنگ کی، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہوگئے۔
ایک عینی شاہد کے مطابق حملے کے وقت چرچ کے اندر اور اطراف میں تقریباً 150 سے 200 افراد موجود تھے، جبکہ بیشتر متاثرین کی عمریں 50 سے 70 سال کے درمیان تھیں۔
واقعے سے متعلق سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس میں چرچ کے داخلی دروازے پر مسلح افراد کو حملہ کرتے دیکھا گیا۔
فوٹیج کی تفصیلات کے مطابق دو افراد پستول استعمال کرتے دکھائی دیے، جبکہ ایک تیسرے شخص کے پاس رائفل تھی اور اس نے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا۔ ابتدائی اطلاعات میں دو جبکہ فوٹیج کی تفصیلات میں تین حملہ آوروں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس فرق کی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
فائرنگ کے بعد اردنی پولیس نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی، جبکہ متعلقہ سیکیورٹی ادارے واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں۔
اردن کے وزیر مملکت برائے حکومتی مواصلات محمد المومنی نے تصدیق کی کہ سیکیورٹی فورسز حملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے حملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ اس کارروائی کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کرک، مسلمان اکثریتی ملک اردن میں مسیحی برادری کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔
دریں اثنا پاکستان کی وزارت خارجہ نے کرک کے چرچ میں آخری رسومات کے دوران ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اردن کی برادر حکومت اور عوام، بالخصوص جاں بحق افراد کے سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔
پاکستان نے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اردن کے برادر عوام کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور دہشت گردی کی تمام اقسام اور صورتوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
اردنی حکام کی جانب سے حملہ آوروں کی تلاش اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ فراہم کردہ اطلاعات میں حملے کے محرکات اور ذمہ دار افراد کی شناخت کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔