World

میلانیا ٹرمپ کا یوکرینی شہر اولیشکی میں عارضی جنگ بندی کرانے کااعلان

میلانیا ٹرمپ کا یوکرینی شہر اولیشکی میں عارضی جنگ بندی کرانے کااعلان
۱ منٹ پہلے

امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان یوکرینی شہر اولیشکی میں عارضی جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا ہے، جس کا آغاز 27 اکتوبر سے ہونا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس انتظام کے تحت شہر میں انسانی امداد پہنچائی جائے گی اور وہاں موجود تقریباً 2 ہزار شہریوں کو ان کی مرضی کے مطابق روس یا یوکرین منتقل کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن معاہدے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ 

امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق اولیشکی میں مجوزہ جنگ بندی کا بنیادی مقصد جنگ سے متاثرہ شہریوں تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ 

جنگ بندی کے تحت شہر میں باقی رہ جانے والے تقریباً 2 ہزار افراد کو اپنی خواہش کے مطابق روس یا یوکرین منتقل ہونے کا موقع بھی دیا جائے گا۔ 

وائٹ ہاؤس کے مطابق ایک امریکی میڈیا ادارہ انسانی امداد اور شہریوں کے انخلا سے متعلق کارروائیوں کی نگرانی بھی کرے گا۔ 

واضح رہے کہ یوکرینی شہر اولیشکی فروری 2022 سے روس کے قبضے میں ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے شہر کی آبادی تقریباً 24 ہزار تھی، جو طویل جنگ اور نقل مکانی کے بعد کم ہو کر لگ بھگ 2 ہزار رہ گئی ہے۔ 

شہر میں موجود شہریوں کو خوراک، ادویات، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ مسلسل حملوں کے باعث ان کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ 

امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے اولیشکی کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجلی، خوراک اور طبی سہولتوں کی کمی نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ 

ان کے مطابق مسلسل حملوں کے ماحول میں انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے محفوظ انخلا کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ 

مجوزہ جنگ بندی سے امید پیدا ہوئی ہے کہ متاثرہ آبادی تک ضروری سامان پہنچایا جاسکے گا اور شہر چھوڑنے کے خواہش مند شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہوسکیں گے۔ 

تاہم روس اور یوکرین کے درمیان مستقل جنگ بندی اور جامع امن معاہدے کی شرائط پر اختلافات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ 

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ نومبر کے پہلے پندرہ دنوں کے دوران ابوظہبی میں روس کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔ 

زیلنسکی نے کہا کہ کسی بھی پائیدار امن معاہدے کے لیے یوکرین کو مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ 

انہوں نے یوکرینی فوج کے لیے آئندہ 10 سال تک مالی معاونت کو بھی امن معاہدے کی اہم شرط قرار دیا۔ 

ادھر یوکرین نے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اسٹار لنک میں رکاوٹوں کی شکایت کی ہے، جس سے مواصلاتی سہولتوں سے متعلق مسائل سامنے آئے ہیں۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر کہا ہے کہ اگر اسٹار لنک کی مشکلات برقرار رہیں تو وہ ایلون مسک سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ 

اولیشکی میں 27 اکتوبر سے شروع ہونے والی مجوزہ جنگ بندی کو انسانی امداد اور شہریوں کے انخلا کے لیے ایک محدود انتظام قرار دیا جارہا ہے، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان وسیع تر امن معاہدے کے لیے مذاکرات ابھی باقی ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں