Breaking News

ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں، ٹرمپ؛ امریکی جہازوں کو دوبارہ خلیج میں داخل نہیں ہونے دینگے،ایرانی آرمی چیف

ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں، ٹرمپ؛ امریکی جہازوں کو دوبارہ خلیج میں داخل نہیں ہونے دینگے،ایرانی آرمی چیف
۱ منٹ پہلے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی مسلح افواج نے امریکی جنگی جہازوں کو خلیج فارس میں واپس داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ 

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو تقریباً آٹھ ماہ گزر چکے ہیں اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آرہے ہیں۔ 

جمعہ 23 اکتوبر کو ریاست فلوریڈا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک اور محدود فوجی کارروائی کرسکتا ہے، جو آپریشن ایپک فیوری سے ملتی جلتی ہوگی، یا پھر ایران معاہدہ کرنے کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔ 

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی قیادت سمجھ داری کا مظاہرہ کرے تو اسے سنجیدہ مذاکرات شروع کرنے چاہییں، تاہم انہوں نے ایرانی حکومت کی آمادگی پر شکوک کا اظہار کیا۔ 

اپنی تقریر میں ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدے، جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے)، سے امریکا کی علیحدگی کے اپنے سابقہ فیصلے کا بھی ایک مرتبہ پھر دفاع کیا۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے ذریعے ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت تباہ کردی تھی، جبکہ بعد میں آپریشن ایپک فیوری کے ذریعے تہران کو مزید نقصان پہنچایا گیا۔ 

امریکی صدر کے مطابق واشنگٹن نے ایران کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور ایرانی معیشت اس وقت دنیا کے بدترین معاشی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کررہی ہے۔ 

اس سے قبل جمعے ہی کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا واشنگٹن کو فوری طور پر جنگ ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا اسے بتدریج اپنے انجام تک پہنچنے دینا چاہیے۔ 

ٹرمپ مختلف مواقع پر جنگ کے خاتمے کے لیے الگ الگ اہداف اور مدت بیان کرتے رہے ہیں۔ اکتوبر کے آغاز میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا 3 نومبر کے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے پہلے ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کرے گا۔ 

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی اقتصادی تنہائی کی مہم نے تہران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 

جمعے کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے اور پاسدارانِ انقلاب سمیت ایرانی حکومت کی آمدن کے ممکنہ ذرائع بند کرنے کے لیے اقتصادی تنہائی کی کارروائی شروع کی ہے۔ 

ان کے مطابق مہم کے آغاز کے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کے ذرائع کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا گیا ہے۔ 

امریکی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خفیہ آئل ٹینکروں کے بیڑے میں کمی آئی ہے، تیل برآمد کرنے والی مرکزی بندرگاہ خالی پڑی ہے اور سمندر میں موجود ایرانی تیل کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں۔ 

سکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ عام ایرانی شہری بڑھتے ہوئے معاشی بحران کا سامنا کررہے ہیں، جبکہ ان کے بقول ایرانی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے بیرون ملک تشدد اور دہشت گردی پر وسائل خرچ کررہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایسے اقدامات کررہے ہیں جنہیں سابق امریکی صدور طویل عرصے تک مؤخر کرتے رہے۔ 

امریکی وزیر خزانہ کے مطابق واشنگٹن اب ایران سے لاحق سمجھے جانے والے خطرے کو محض محدود کرنے کے بجائے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ 

ادھر ایرانی مسلح افواج کے سربراہ علی عبداللہی نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجی اور بحری جہازوں کو دوبارہ خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 

علی عبداللہی نے کہا کہ امریکی صدر کا یہ خیال کہ ان کی فوج اور بحریہ دوبارہ خلیج فارس میں آسکیں گی، محض ایک خواب ہے۔ 

انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ خواب اپنے ساتھ قبر تک لے جائیں گے، جبکہ ایران کسی بھی وقت اور کسی بھی صورت میں امریکی جنگی جہازوں کو خلیج فارس میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ 

اس سے ایک روز قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے 600 سے 700 کلومیٹر دور جاچکی ہیں۔ 

 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں