Breaking News

فیلڈمارشل، سعودی وزیرِ دفاع اور ترک انٹیلیجنس سربراہ ایرانی حکام کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں شرکت کرینگے

فیلڈمارشل، سعودی وزیرِ دفاع اور ترک انٹیلیجنس سربراہ ایرانی حکام کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں شرکت کرینگے
۱ منٹ پہلے

ایران نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کے دورۂ تہران اور علاقائی سلامتی سے متعلق مشترکہ اجلاس کی تصدیق کردی ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترکی کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ 

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو کرتے ہوئے علی باقری نے بتایا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس سے قبل ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی سے ملاقات کی تھی۔ 

ان کے مطابق اس ملاقات میں عاصم منیر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کے تہران آنے اور ایرانی حکام کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔ 

علی باقری نے کہا کہ ایران اور تینوں ممالک خطے کی سیکیورٹی کے لیے مشترکہ تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کے قومی سلامتی کے کامیاب تجربے سے فائدہ اٹھا کر علاقائی تحفظ اور سلامتی سے متعلق تعاون کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ 

اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ مکہ معاہدے کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام پیر 26 اکتوبر کو تہران میں علاقائی رابطہ کاری سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔ 

رپورٹ کے مطابق مجوزہ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور متعلقہ ممالک کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری کے معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔ 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ جاری ہونے کی اطلاعات ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مکہ معاہدے کے رکن تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اکتوبر کے اوائل میں سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا تھا۔ 

اس اجلاس میں مبینہ طور پر سعودی عرب میں فوجی دستوں اور عسکری صلاحیتوں کی تعیناتی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ 

ایرانی حکام کی جانب سے دورے اور مشترکہ اجلاس کی تصدیق کے بعد تہران میں علاقائی سلامتی سے متعلق اہم بات چیت کی راہ ہموار ہوئی ہے، تاہم فراہم کردہ رپورٹس میں اجلاس کے حتمی نتائج یا کسی نئے معاہدے کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں