Business

سٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 12 فیصد کردی

سٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 12 فیصد کردی
۲۳ گھنٹے پہلے

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں اور بیرونی معاشی دباؤ کے پیش نظر شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوگیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق نئی شرح سود کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا، جبکہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔

 

پیر 26 اکتوبر کو گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرِ صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی اور عالمی معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات، توانائی کی قیمتوں اور دیگر اہم اقتصادی اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

 

اجلاس کے بعد گورنر سٹیٹ بینک نے پریس کانفرنس میں شرح سود 50 بیسز پوائنٹس بڑھانے کا اعلان کیا۔مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق پالیسی ریٹ میں اضافے کا اطلاق منگل 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔

 

جمیل احمد نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مجموعی طور پر 10 ارکان نے فیصلے میں حصہ لیا، جن میں سے 9 نے شرح سود بڑھانے کی حمایت کی، جبکہ ایک رکن نے اس کی مخالفت کی۔

 

گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر میں ہونے والے گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس کے بعد ملکی اور عالمی معاشی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کے باعث پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

 

جمیل احمد کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 7.1 فیصد رہی ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات اور گندم کی قیمتوں میں اضافے نے مستقبل میں مہنگائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھایا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ جائزوں میں توقع ظاہر کی گئی تھی کہ آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی تک مہنگائی کی شرح تقریباً 7 فیصد تک آجائے گی۔

 

تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے بالواسطہ اثرات کے باعث مہنگائی کو مطلوبہ ہدف تک لانے میں پہلے اندازے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

 

گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران بنیادی مہنگائی میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں تیل کی قیمتوں کے ثانوی اثرات باعثِ تشویش ہیں۔

 

ان کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے صارفین کی مہنگائی سے متعلق توقعات اور معاشی ماہرین کے جائزوں کو بھی فیصلے میں شامل کیا۔

 

جمیل احمد نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کے بیرونی کھاتے پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں بہتری کے باوجود درآمدی بل بڑھنے سے کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال گزشتہ جائزے کے مقابلے میں متاثر ہونے کا امکان ہے۔

 

گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار، یعنی جی ڈی پی، کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 10 ارب 90 کروڑ ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔

 

جمیل احمد کے مطابق اس کارکردگی کے بعد رواں مالی سال کے لیے ترسیلاتِ زر کا تخمینہ 44 ارب ڈالر سے بڑھا کر تقریباً 45 ارب ڈالر کردیا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے شروع کی گئی ترسیلاتِ زر سے متعلق سکیم اور بیرونِ ملک روزگار کے رجحانات کے باعث آنے والے مہینوں میں ترسیلاتِ زر مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

 

برآمدات کے حوالے سے گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ رواں مالی سال پاکستان کی ایکسپورٹس 32 ارب 50 کروڑ سے 33 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے۔

 

گزشتہ مالی سال میں ملکی برآمدات کا حجم 30 ارب 80 کروڑ ڈالر تھا۔

 

تاہم جمیل احمد نے خبردار کیا کہ درآمدات میں اضافے کا دباؤ برقرار ہے اور رواں مالی سال ملک کا درآمدی بل تقریباً 71 ارب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کی مجموعی درآمدات تقریباً 64 ارب 50 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔

 

گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق درآمدات بڑھنے سے برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کے کچھ فوائد زائل ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بیرونی کھاتے پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

 

زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ 2022 کے بعد پاکستان کے بیرونی کھاتے کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

 

انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر صرف 2 ارب 80 کروڑ ڈالر رہ گئے تھے، جو تقریباً دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔

 

تاہم اب زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21 ارب 50 کروڑ ڈالر ہوگئے ہیں، جسے انہوں نے بیرونی مالیاتی صورتحال میں اہم بہتری قرار دیا۔

 

معاشی شرح نمو سے متعلق گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے لیے پاکستان کی اقتصادی ترقی کا نظرثانی شدہ تخمینہ 3.7 فیصد رہا۔

 

اس سے قبل مالی سال کے آغاز پر اقتصادی ترقی کی شرح 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔

 

جمیل احمد کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں اوسط معاشی ترقی کی شرح 4.2 فیصد رہی اور ہر سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا۔

 

تاہم آخری سہ ماہی میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث معاشی سرگرمیاں سست ہوئیں، جس کے نتیجے میں سالانہ شرح نمو پہلے اندازوں سے کم ہوکر 3.7 فیصد رہی۔

 

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے حتمی اعدادوشمار ابھی جاری نہیں ہوئے، لیکن ابتدائی جائزوں سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔

 

سٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے۔

 

زرعی شعبے کے حوالے سے گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں مالی سال میں اس شعبے کی کارکردگی بہتر رہنے کی توقع ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ پہلی سہ ماہی میں گنے، چاول اور مکئی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، تاہم کپاس کی پیداوار توقعات سے کم رہی۔

 

جمیل احمد کے مطابق بڑی فصلوں کی مجموعی پیداوار میں بہتری سے زرعی شعبے اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔

 

شرح سود کے گزشتہ فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جون 2023 میں پاکستان کا بنیادی پالیسی ریٹ ریکارڈ 22 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جس کے بعد مہنگائی کم ہونے پر مرکزی بینک نے بتدریج شرح سود میں کمی کی۔

 

دسمبر 2025 میں شرح سود 50 بیسز پوائنٹس کم کی گئی، جبکہ جنوری اور مارچ 2026 میں پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا۔

 

بعد ازاں اپریل 2026 میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کو لاحق خدشات کے باعث سٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا۔

 

اس کے بعد ہونے والے مانیٹری پالیسی جائزوں میں شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی گئی تھی۔

 

تاہم تازہ فیصلے میں مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ مزید 50 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کردیا ہے، جس کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔

 

گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود میں اضافے کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خطرات، توانائی کی بلند عالمی قیمتوں اور بیرونی معاشی دباؤ کے اثرات کو محدود کرنا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں