پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد 55 فیصد بڑھ کر 6 لاکھ 56 ہزار سے تجاوز
کراچی میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کی جانب سرمایہ کاروں کے رجحان میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران سرمایہ کاروں کی تعداد میں 55 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی تعداد 6 لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کرگئی۔
اسی عرصے میں ملکی معیشت کے بعض اہم اشاریوں میں بھی بہتری سامنے آئی ہے، جبکہ ٹیکس فائلرز کی تعداد بڑھنے اور مجموعی قرضوں میں کمی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں نئے سرمایہ کاروں کی شمولیت میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔
اعدادوشمار کے مطابق سرمایہ کاروں کی تعداد میں 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی تعداد 6 لاکھ 56 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔
صرف ستمبر کے مہینے میں 25 ہزار 281 نئے سرمایہ کار پاکستان سٹاک ایکسچینج سے وابستہ ہوئے، جو حصص کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران معیشت کی کارکردگی سے متعلق مختلف اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، یعنی آئی ایم ایف، کی جائزہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے معاشی اہداف پر عمل درآمد تسلی بخش انداز میں جاری ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو، یعنی ایف بی آر، کی ٹیکس وصولیاں بھی پہلی سہ ماہی کے لیے مقرر کردہ ہدف سے تجاوز کرگئیں۔
رپورٹ میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے افراد کی تعداد میں بھی نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد میں 45 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد گوشوارے جمع کرانے والوں کی مجموعی تعداد 57 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی۔
اس اضافے کو مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں سامنے آنے والی اہم معاشی پیش رفت میں شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب حکومتی قرضوں کی صورتحال سے متعلق خرم شہزاد نے بتایا کہ جون کے مقابلے میں پاکستان کے مجموعی قرضوں میں 714 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس کمی کے بعد مجموعی قرضوں کا حجم تقریباً 86 ٹریلین روپے، یعنی 86 ہزار ارب روپے، رہ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسی عرصے میں ملکی اندرونی قرضوں میں 684 ارب روپے کمی ہوئی، جس کے بعد اندرونی قرضوں کا مجموعی حجم 58.8 ٹریلین روپے، یعنی 58 ہزار 800 ارب روپے، کی سطح پر آگیا۔
تاہم بیرونی قرضوں کے حجم میں کوئی نمایاں تبدیلی سامنے نہیں آئی اور یہ تقریباً 98.2 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار رہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ٹیکس وصولیوں، انکم ٹیکس گوشواروں اور قرضوں سے متعلق بعض معاشی اشاریوں میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی۔
البتہ فراہم کردہ اعدادوشمار میں سٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کی تعداد میں 55 فیصد اضافے کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والے تقابلی عرصے کی مکمل وضاحت موجود نہیں ہے۔