Business

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے بیشتر اشیائے ضروریہ مہنگی، سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمت پر فروخت

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے بیشتر اشیائے ضروریہ مہنگی، سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمت پر فروخت
۳ گھنٹے پہلے

ملک بھر میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ سبزیاں، پھل، گوشت، ایل پی جی اور آٹا مہنگا ہونے سے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں، جبکہ لاہور میں متعدد اشیا سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمتوں پر فروخت کی جارہی ہیں۔  


لاہور میں سبزیوں کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو پیاز کی سرکاری قیمت 195 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم دکاندار اسے 250 روپے فی کلو فروخت کررہے ہیں۔ 

اسی طرح آلو کا سرکاری نرخ 42 روپے فی کلو ہے، لیکن بازار میں اس کی قیمت 70 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ 

ٹماٹر کی سرکاری قیمت میں 50 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد نیا نرخ 150 روپے فی کلو مقرر کیا گیا، تاہم مارکیٹ میں ٹماٹر 200 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے۔ 

دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ بھنڈی کی سرکاری قیمت 140 روپے فی کلو ہے، جبکہ بازار میں اسے 200 روپے فی کلو تک فروخت کیا جارہا ہے۔ 

مٹر کا سرکاری نرخ 350 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود دکاندار اسے 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت کررہے ہیں۔ 

دیسی ٹینڈے 170 روپے فی کلو کے بجائے 250 روپے میں دستیاب ہیں، جبکہ لہسن کا سرکاری نرخ 420 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں اس کی قیمت 500 سے 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ 

چینی ادرک کی قیمت بھی 450 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ 

سبزیوں کے ساتھ پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے شہریوں کے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔ 

کھجور کی سرکاری قیمت 425 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں یہ 520 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔ 

کیلے کا سرکاری نرخ 160 روپے فی درجن ہے، جبکہ دکاندار اسے 200 روپے فی درجن فروخت کررہے ہیں۔ 

سیب کی قیمت 400 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مسمی 165 روپے فی درجن کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 200 روپے فی درجن فروخت ہورہی ہے۔ 

امرود بھی 240 روپے کے بجائے 300 روپے تک فروخت کیا جارہا ہے۔ 

دوسری جانب گوشت اور پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 

برائلر مرغی کے گوشت کا سرکاری نرخ 533 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں اسے 550 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے۔ 

انڈوں کی قیمت 267 روپے فی درجن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گائے کا گوشت تقریباً 1300 روپے اور بکرے کا گوشت 3000 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ 

ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخ اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان بڑا فرق سامنے آیا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی سرکاری قیمت 280 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن مختلف مقامات پر اسے 500 سے 600 روپے فی کلو تک فروخت کیا جارہا ہے۔ 

اسی طرح آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت پہلے 2200 روپے تھی، جو اب 100 روپے اضافے کے بعد 2300 روپے ہوگئی ہے۔ 

اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور مقررہ نرخوں سے زیادہ وصولیوں کے باعث شہریوں کو اضافی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ 

گراں فروشی کی روک تھام کے لیے ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے باوجود بازاروں میں متعدد اشیا سرکاری نرخوں پر دستیاب نہیں ہیں۔ 

اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گراں فروشی کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کی جارہی ہیں، جن کے دوران مقدمات درج کرنے کے ساتھ بھاری جرمانے بھی عائد کیے جارہے ہیں۔ 

تاہم فراہم کردہ مارکیٹ رپورٹ کے مطابق سرکاری اور فروخت کی قیمتوں کے درمیان نمایاں فرق برقرار ہے، جس کے باعث شہریوں کو سبزیوں، پھلوں، گوشت، ایندھن اور آٹے جیسی بنیادی ضروریات خریدنے کے لیے زیادہ رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ 

واضح رہے کہ رپورٹ میں دی گئی زیادہ تر مخصوص قیمتیں لاہور کی مارکیٹوں سے متعلق ہیں، جبکہ ملک بھر میں پیٹرول مہنگا ہونے کے باعث اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کا مسئلہ بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں