Breaking News

جعلی چیک کیس میں غلط پولیس رپورٹ پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

جعلی چیک کیس میں غلط پولیس رپورٹ پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم
۱ منٹ پہلے

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے 20 لاکھ روپے کے جعلی چیک کے مقدمے میں ملتان پولیس کی کارکردگی اور عدالت میں غلط رپورٹ پیش کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی پی او ملتان سے ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ پولیس رپورٹ میں ملزم کو اشتہاری قرار دیا گیا، حالانکہ مدعی کے ساتھ راضی نامہ ہونے کے بعد ملزم کی ضمانت بھی کنفرم ہوچکی ہے۔ 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے شہری شہباز نور کی جانب سے 20 لاکھ روپے کے جعلی چیک کا مقدمہ خارج کرنے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی۔ 

دورانِ سماعت عدالتی حکم پر سی پی او ملتان عدالت میں پیش ہوئے، جہاں چیف جسٹس نے پولیس کی تفتیش اور رپورٹنگ کے طریقہ کار پر سخت سوالات اٹھائے۔ 

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سی پی او ملتان سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے خود اس مقدمے کا جائزہ لیا ہے اور وہ اپنے محکمے کی کارکردگی کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟ 

عدالت نے نشاندہی کی کہ پولیس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں ملزم کو اشتہاری ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مدعی اور ملزم کے درمیان راضی نامہ ہوچکا ہے اور ملزم کی ضمانت بھی کنفرم کی جاچکی ہے۔ 

اس صورتحال پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ پولیس اہلکار مقدمات کی فائلیں کیوں نہیں دیکھتے اور عدالت میں غلط رپورٹ کیسے جمع کرائی گئی؟ 

انہوں نے پولیس افسران کی جانب سے محکمانہ کارروائی کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ شوکاز نوٹس جاری کرنا محض دکھاوا نہیں ہونا چاہیے۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شوکاز نوٹس آنکھوں کا دھوکا ہے اور عدالت کسی دھوکے میں نہیں آئے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ اکثر ایک ماہ بعد شوکاز نوٹس اور معطلی کے احکامات واپس لے لیے جاتے ہیں، اس لیے ایسی کارروائیوں سے اصل مسائل حل نہیں ہوتے۔ 

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس صرف انہی مقدمات میں کارروائی کرتی ہے جن میں عدالت افسران کو طلب کرتی ہے؟ 

مقدمے کی تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 2018 کا کیس ہے، مدعی رقم وصول کرکے پاکستان سے جاچکا ہے، لیکن ملزم اب بھی مقدمے میں پھنسا ہوا ہے۔ 

عدالت نے مقدمات کے غیر ضروری التوا اور پولیس کی جانب سے پرانے کیسز میں دوبارہ چالان جمع کرانے کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتوں میں 2021 کے مقدمات نمٹائے جاچکے ہیں، لیکن پولیس جب کسی پرانے مقدمے میں دوبارہ چالان پیش کرتی ہے تو وہ معاملہ ایک بار پھر عدالتی نظام میں آجاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پولیس افسران کو صرف اختیارات استعمال کرنے کے بجائے اپنی قانونی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ 

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے واضح کیا کہ کام میں زبانی وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کی اہمیت ہوتی ہے۔ 

عدالتی ریمارکس کے جواب میں سی پی او ملتان نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ 

اس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے سی پی او ملتان کو حکم دیا کہ مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ ایک ماہ کے اندر عدالت میں جمع کرائی جائے۔ 

واضح رہے کہ شہری شہباز نور کے خلاف 20 لاکھ روپے کے جعلی چیک کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے اخراج کے لیے انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے۔ 

عدالت کی جانب سے دیے گئے ریمارکس میں پولیس کی غلط رپورٹنگ، غیر مؤثر محکمانہ احتساب اور پرانے مقدمات کے غیر ضروری التوا پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں