پشاور سکول حادثہ: 34 اموات کی انکوائری رپورٹ میں مالک ذمہ دار، ناقص تعمیر کا انکشاف
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی سکول کی عمارت منہدم ہونے سے 33 بچوں اور ایک استانی کی ہلاکت کے واقعے کی انکوائری کمیٹی نے سکول مالک کو ذمہ دار قرار دے دیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں عمارت کی تعمیر میں ناقص میٹریل کے استعمال اور متعلقہ سرکاری محکموں کی غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت پشاور سکول حادثے کی انکوائری رپورٹ سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں کمیٹی نے حادثے کی وجوہات اور تحقیقات کے نتائج پیش کیے۔
پشاور کے علاقے دیر کالونی کے سعید آباد میں واقع نجی سکول الخیر ایجوکیشن سسٹم کی عمارت کی چھتیں 15 اکتوبر 2026 کو صبح 9 بج کر 5 منٹ پر منہدم ہوگئی تھیں۔ حادثے میں 33 بچوں سمیت ایک استانی جاں بحق جبکہ 51 افراد زخمی ہوئے تھے۔
انکوائری کمیٹی نے گورنر کو متعلقہ افسران کے بیانات، سرکاری محکموں کی ذمہ داریوں، تحقیقات کے نتائج اور سفارشات سے آگاہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق سکول کی عمارت کی تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال کیا گیا، جس کی بنیاد پر سکول مالک کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
کمیٹی نے متعلقہ سرکاری محکموں کی جانب سے غفلت برتنے اور ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے معاملات کی بھی نشاندہی کی۔
اجلاس میں مشیر تعلیم عامر عبداللہ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان، سیکرٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم اور انکوائری کمیٹی کے ارکان شریک ہوئے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ انکوائری رپورٹ کے قانونی پہلوؤں کا محکمہ قانون سے جائزہ لیا جائے اور ذمہ داری کے تعین کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور تحقیقات میں سامنے آنے والی خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔