لاہور ہائیکورٹ کا بچوں کا ماہانہ خرچہ 30 ہزار فی بچہ کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے کمسن بچوں کا ماہانہ خرچہ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے فی بچہ مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بچوں کے خرچے میں سالانہ 10 فیصد اضافہ 2019 سے شمار کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بچوں کی کفالت والد کی ذمہ داری ہے، جو شادی ختم ہونے یا بچوں کے والدہ کے پاس رہنے سے ختم نہیں ہوتی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کمسن بچوں کے ماہانہ خرچے سے متعلق ایک خاتون کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے فیصلے میں ہر بچے کا ماہانہ خرچہ 20 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے مقرر کردیا اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ 2019 سے سالانہ 10 فیصد اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بقایاجات کا حساب لگایا جائے۔
ہائیکورٹ نے والدہ کے حق میں ماہانہ 15 ہزار روپے خرچے کا سابقہ فیصلہ بھی برقرار رکھا، تاہم واضح کیا کہ خاتون کو یہ خرچہ صرف عدت کی مدت تک ادا کیا جائے گا۔
عدالت نے جہیز کے سامان کی متبادل قیمت 2 لاکھ 80 ہزار روپے مقرر کرنے کا سابقہ حکم بھی برقرار رکھا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران درخواست گزار خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ بچوں کا والد برطانوی شہری ہے اور زیادہ خرچہ ادا کرنے کی مالی استطاعت رکھتا ہے۔
دوسری جانب بچوں کے والد نے دعویٰ کیا کہ برطانیہ میں اس کی ماہانہ آمدن صرف 500 سے 600 پاؤنڈ کے درمیان ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ محض برطانیہ میں رہائش پذیر ہونے سے کسی شخص کی حقیقی آمدن یا مالی حیثیت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق والد کی مالی استطاعت جانچنے کے لیے اس کے کام کی نوعیت، ملازمت، آمدن اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ بچوں کے ماہانہ خرچے کا تعین کرتے وقت ان کی تعلیم، پرورش اور دیگر بنیادی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے طے کردہ اصول کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ شادی ختم ہونے کے باوجود بچوں کی کفالت کی ذمہ داری والد پر برقرار رہتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر بچے اپنی والدہ کے پاس رہ رہے ہوں تو اس بنیاد پر والد اپنی مالی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ والد کی جانب سے محدود آمدن کا دعویٰ صرف زبانی بیان کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کے لیے قابل اعتماد دستاویزی شواہد پیش کرنا ضروری ہیں۔
حکم نامے کے مطابق اگر والد یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کی آمدن محدود ہے تو اسے تنخواہ کی سلپ یا دیگر متعلقہ مالی دستاویزات کے ذریعے اپنے دعوے کو ثابت کرنا ہوگا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بچوں کے خرچے کا فیصلہ ان کی حقیقی ضروریات اور والد کی ثابت شدہ مالی استطاعت کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔