مریم نواز کا فالج کے علاج کیلئے 5 ارب روپے فوری جاری کرنے کا حکم، 40 مراکز فعال
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فالج کے مریضوں کے فوری علاج کے لیے 5 ارب روپے آج ہی جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں پرائمری سٹروک سینٹرز کی تعداد 16 سے بڑھا کر 40 کردی گئی ہے، جبکہ مزید 15 مراکز آئندہ چند ماہ میں فعال ہوجائیں گے۔
لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں عالمی یومِ فالج کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ فالج ایک ہنگامی طبی صورتحال ہے جس میں بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض مستقل معذوری یا دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کے خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی اور کولیسٹرول کی زیادتی فالج کے اہم خطرات میں شامل ہیں، اس لیے ان بیماریوں کو قابو میں رکھنے کے ساتھ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی باقاعدگی سے نگرانی ضروری ہے۔
مریم نواز نے فالج کی علامات بیان کرتے ہوئے کہا کہ چہرے کا ایک طرف ڈھلک جانا، ایک بازو میں اچانک کمزوری یا فالج اور بولنے میں دشواری اہم انتباہی علامات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی علامات ظاہر ہونے پر مریض کی عمر سے قطع نظر اسے فوری ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے، کیونکہ علاج میں تاخیر دماغ کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق فالج کے بعض مریضوں کو علامات شروع ہونے کے بعد ساڑھے 4 گھنٹے کی اہم مدت کے اندر مخصوص علاج فراہم کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے، جس سے مستقل معذوری کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور دیگر دور دراز علاقوں سے فالج کے مریضوں کو لاہور منتقل کرنا نہ صرف مہنگا بلکہ وقت طلب بھی ہوسکتا ہے، اس لیے مختلف اضلاع میں مقامی سطح پر جدید علاج کی سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب کے 23 اضلاع میں اس وقت 40 پرائمری سٹروک سینٹرز فعال ہیں، جبکہ پہلے ان مراکز کی تعداد 16 تھی۔ مزید 15 مراکز قائم کیے جارہے ہیں جو آئندہ چند ماہ میں فعال ہوجائیں گے۔
ان مراکز میں فالج کے ایسے مریضوں کو، جن کے لیے یہ علاج موزوں ہو، خون کا لوتھڑا تحلیل کرنے والے مخصوص انجیکشن لگانے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے تاکہ بروقت علاج کے ذریعے مستقل معذوری کے امکانات کم کیے جاسکیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس علاج کے لیے خصوصی طبی مہارت درکار ہوتی ہے، اسی لیے ڈاکٹر قاسم اور ڈاکٹر آصف متعلقہ ڈاکٹروں، طبی عملے اور نرسوں کی تربیت کررہے ہیں۔
انہوں نے جدید طبی مشینری اور علاج کی سہولیات میں مزید اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فالج کے مریضوں کی جان بچانے اور انہیں معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے جتنے وسائل خرچ کیے جائیں، کم ہیں۔
مریم نواز نے بتایا کہ فالج کے علاج میں استعمال ہونے والے مخصوص انجیکشن کی قیمت تقریباً 3 لاکھ روپے ہے، جو عام آدمی کے لیے برداشت کرنا انتہائی مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریض کو بروقت علاج فراہم کرنے سے نہ صرف مستقل معذوری کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کے خاندان کو بھی شدید مالی، معاشرتی اور دیکھ بھال سے متعلق مشکلات سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فالج کے مریضوں کے علاج کے لیے مختص 5 ارب روپے فوری طور پر آج ہی منتقل کیے جائیں۔
انہوں نے متعلقہ ڈاکٹروں کو یقین دہانی کرائی کہ فالج کے علاج کے لیے مالی وسائل کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی اور اگر کسی مرحلے پر فنڈز کی قلت کا سامنا ہو تو وہ براہ راست ان سے رابطہ کریں۔