کراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل کا جرم ثابت، ایک اہلکار کو سزائے موت، دو کو عمر قید
کراچی کی عدالت نے جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہونے پر ایک پولیس اہلکار کو سزائے موت جبکہ دو دیگر اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنادی۔ عدالت نے تینوں مجرموں کو مقتول کے ورثا کو فی کس 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
کراچی کی ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے گلستان جوہر میں نوجوان عامر کی ہلاکت سے متعلق جعلی پولیس مقابلے کے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر پولیس اہلکار شہریار کو سزائے موت سنائی، جبکہ مقدمے میں شریک پولیس اہلکار ناصر اور فیصل کو عمر قید کی سزا دی گئی۔
عدالت نے تینوں مجرموں کو حکم دیا کہ وہ مقتول عامر کے قانونی ورثا کو پانچ، پانچ لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کریں۔
استغاثہ کے مطابق شاہین فورس کے پولیس اہلکاروں نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نوجوان عامر کو رکنے کا اشارہ کیا تھا۔
عامر کے نہ رکنے پر پولیس اہلکاروں نے اس کا تعاقب شروع کردیا اور بعد میں ایک رہائشی فلیٹ میں داخل ہوکر اس پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں عامر جاں بحق ہوگیا۔
استغاثہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ابتدائی طور پر نوجوان کی ہلاکت کو پولیس مقابلے کا نتیجہ ظاہر کیا تھا۔
تاہم بعد میں واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس مقابلے کی حقیقت پر سوالات اٹھے اور سال 2022 میں ملوث اہلکاروں کے خلاف تھانہ شاہراہ فیصل میں مقدمہ درج کیا گیا۔
مقدمے کی عدالتی کارروائی مکمل ہونے پر ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے تینوں پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیتے ہوئے شہریار کو سزائے موت، ناصر اور فیصل کو عمر قید اور تینوں کو مقتول کے ورثا کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے معاوضے کی سزا سنائی۔