Pakistan

ریاست سے متعلق نازیبا الفاظ ناقابلِ قبول، رانا ثنا اللہ؛ کامران مرتضیٰ کا محسن نقوی پر جوابی وار

ریاست سے متعلق نازیبا الفاظ ناقابلِ قبول، رانا ثنا اللہ؛ کامران مرتضیٰ کا محسن نقوی پر جوابی وار
۱۴ گھنٹے پہلے

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے ریاست سے متعلق بیانات کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے اور ماں کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال نہیں کیے جاسکتے۔

 

 دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وزیر داخلہ محسن نقوی پر ایوان کا تقدس پامال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو فون کرکے مولانا فضل الرحمان کے خلاف بات کرنے کی ہدایات دی جارہی ہیں۔ 

سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان، مولانا عطا الرحمان اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کا احترام کرتے ہیں، تاہم سیاسی اختلافات کے باوجود ریاست کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے پے در پے بیانات سے قوم کو تکلیف پہنچی ہے، جبکہ شہدا کے بارے میں گفتگو کرتے وقت بھی سیاسی رہنماؤں کو احتیاط کرنی چاہیے۔ 

رانا ثنا اللہ نے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے اس مؤقف کا حوالہ دیا کہ اگر ریاست کا رویہ مختلف ہو تو اس کے خلاف ایسے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے تو اس کے بارے میں نازیبا الفاظ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ 

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل شہدا سے متعلق بھی اسی نوعیت کے بیانات سامنے آئے تھے، اس لیے سیاسی رہنماؤں کو اپنی ذاتی انا کو اجتماعی مفادات سے بالاتر نہیں رکھنا چاہیے۔ 

قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تمام متعلقہ معاملات سپریم کورٹ کے سامنے رکھے جاچکے ہیں۔ 

ان کے مطابق جیل میں فراہم کردہ سہولیات کے بارے میں متعلقہ قیدی کے وکیل نے بھی سپریم کورٹ کو آگاہ کیا اور عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ اور متعلقہ فریقوں کو فراہم کردہ معلومات میں کوئی فرق نہیں تھا۔ 

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی گرفتاری سے متعلق رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کو اکسا رہی تھیں اور اسلام آباد کی جانب احتجاجی پیش قدمی کے ذریعے انتشار پیدا کرنا چاہتی تھیں، اسی وجہ سے انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ نورین نیازی کی طبیعت خراب ہوتے ہی انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ 

رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ نورین نیازی کی تمام طبی رپورٹس درست آئی ہیں۔ انہوں نے تحریک انصاف کو مشورہ دیا کہ وہ ان کی رہائی یا دیگر معاملات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرے۔ 

رانا ثنا اللہ کے خطاب کے دوران تحریک انصاف کی سینیٹر مشال یوسفزئی نے احتجاج بھی کیا۔ 

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی تقریر پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی ایوان میں جواب دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ 

کامران مرتضیٰ نے الزام عائد کیا کہ محسن نقوی ذاتی ایجنڈا لے کر سینیٹ میں آئے تھے اور ان کی گفتگو سے ایوان کا تقدس پامال ہوا۔ 

انہوں نے طنزیہ انداز میں محسن نقوی کو ہر فن مولا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی وزیر داخلہ، کبھی وزیر خارجہ، کبھی کرکٹ اور کبھی صفائی کے معاملات میں نظر آتے ہیں۔ 

جے یو آئی کے سینیٹر نے دعویٰ کیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو فون کالز اور واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے کہا جارہا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف بات کریں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ کسی وزیر کی جانب سے اس نوعیت کے رابطے اور سیاسی دباؤ قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ 

کامران مرتضیٰ نے محسن نقوی پر ایوان میں نازیبا زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا اور انہیں امریکی میڈیا سے وابستہ شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کی وفاداری پر بھی سوال اٹھائے۔ 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے خلاف بات کرنے والوں کو ریاست مخالف ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ حکومتی شخصیات پر تنقید کرنا اور ریاست کی مخالفت کرنا الگ معاملات ہیں۔ 

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جس انداز میں سینیٹ میں ان کی جماعت کی توہین کی گئی، ایسا رویہ انہوں نے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں دیکھا۔ 

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ متعلقہ وزیر کے مالی اثاثے اور بینک اکاؤنٹس بیرون ملک موجود ہیں، جبکہ ماضی میں وہ خود مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آیا کرتے تھے۔ 

کامران مرتضیٰ کی جانب سے سیاسی دباؤ، بیرون ملک مالی اثاثوں اور ذاتی طرزِ عمل سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں